اتوار, 27 مئی 2018


پی ایس ایل 3 شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام

 

ایمزٹی وی(اسپورٹس)کمزور تشہیری مہم پی ایس ایل تھری کی بے رونقی کا سبب بن گئی مقامی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے دبئی اور شارجہ میں مقابلے زیادہ توجہ نہیں حاصل کرپائےنئے ٹیکس سسٹم کے تحت مفت ٹکٹوں کو 10فیصد تک محدود کرنے سے بھی اسٹینڈز خالی نظر آئے۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ دونوں ایونٹس کی بانسبت اس بار پی ایس ایل تھری کے دبئی اور شارجہ میں شیڈول میچز زیادہ توجہ نہیں حاصل کرپائے اور اسٹینڈز میں شائقین کی کمی کھٹکتی رہی، ایک برطانوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے تسلیم کیا کہ اسٹیڈیمز خالی رہنے کی بات کسی حد تک صحیح ہے لیکن انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گذشتہ2ایونٹس کے مقابلے میں اس بار شائقین کی تعداد شارجہ میں بہتر رہی، دبئی میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے ہم تھوڑے بہت مفت ٹکٹ دے دیتے تھے لیکن اب یواے ای میں نئے ٹیکس سسٹم کا نفاذ ہونے کی وجہ سے 10فیصد سے زیادہ نہیں دے سکتے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ایجنٹس کی حوصلہ افزائی کا بھی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا،کچھ مسائل ہماری طرف اور کچھ ادھر سے ہیں،حل یہی ہے کہ جتنا جلدی ہوپی ایس ایل کو پاکستان لے جایا جائے۔ایک خلیجی اخبار سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی کے آر نائر نے کہا کہ اس بار پی ایس ایل کی تشہیری مہم نہ ہونے کے برابر تھی، ایونٹ شروع ہونے سے صرف چند روز قبل 2 بڑے مقامی اخبارات میں اشتہارات نظر آئے۔
گذشتہ سال پی سی بی نے ڈرافٹنگ دبئی میں رکھی، تشہیری مہم میں مقامی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی شامل رکھا تھا، اس بار ڈرافٹنگ سے لے کر کٹس کی رونمائی تک ہر تقریب پاکستان میں ہوئی جس کی وجہ سے دبئی اور شارجہ میں وہ ماحول پیدا نہیں ہو سکا جو اس بڑے ایونٹ کیلیے ضروری تھا، میچز کی بڑی تعداد یواے ای میں ہونے کی وجہ سے اصل توجہ مقامی شائقین پر دی جانا چاہیے تھی تاکہ وہ میدانوں کا رخ کرتے۔ سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ پی ایس ایل کا انوکھا پن اب سپاٹ ہوتا نظر آرہا ہے،اگر آئندہ بھی اسے دبئی اور شارجہ میں منعقد کرنا ہے تو بہت زیادہ محنت درکار ہوگی کیونکہ مقامی شائقین اب بہت زیادہ کرکٹ دیکھ کر تھکاوٹ کا شکار ہو گئے ہیں، لیگ پاکستان ہی میں پھلے پھولے گی۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment