جمعہ, 23 اگست 2019


اسٹیٹ بینک کامہنگائی میں اضافےکاعندیہ

 
کراچی: اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کے لیے مالیاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں رائج شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔
 
کراچی میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا ہے، شرح سود کا اطلاق 17 جولائی سے ہوگا اور نئی پالیسی دو ماہ کے لیے ہے۔
 
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق 100 بیسز پوانٹس اضافے کے نتیجے میں شرح سود بڑھ کر 13.25 فیصد کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافے کا تناظر بھی شرح سود میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔
 
رضا باقر نے کہا کہ مہنگائی کی شرح ہمارے اندازے سے کچھ زیادہ ہے اور اوسط مہنگائی بھی کچھ بڑھنے کا امکان ہے، لیکن آئندہ مالی سال میں مہنگائی کافی حد تک نیچے آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال اوسط مہنگائی 11 سے 12 فیصد رہ سکتی ہے۔ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خطرہ ہے۔
 
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود بڑھنے سے سب سے زیادہ نقصان خود حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لے رہی ہے اور بلند شرح سود سے حکومت کو سود کی ادائیگی کی مد میں اضافی سوا تین سو ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔
 
شرح سود میں مسلسل اضافے سے سرمایہ کاری کم ہو گی اور نجی شعبے کے بینکوں سے قرض لے کر کاروبار شروع کرنا مشکل ہو جائے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment