جمعرات, 28 مئی 2020


سندھ کے سرکاری کالجز فنڈز نہ ملنے پر مالی بحران کا شکار

سندھ کے 330 سرکاری کالجوں کو گزشتہ 2 برس سے فنڈز نہ جاری ہونے کی وجہ سے کالجز مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کالجوں میں کوآپریٹو اساتذہ کو فارغ کردیا گیا ہے، بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع ہونے شروع ہوگئے ہیں اور مرمت کے سارے کام التواء کا شکار ہوگئے ہیں۔

حکومت سندھ نے تعلیمی سیشن 2017-18ء میں سندھ بھر کے گورنمنٹ کالجز میں گیارہویں اور بارہویں جماعت میں داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات کی داخلہ فیس ، انرولمنٹ اور امتحانی فیس معاف کردی تھیں اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ سندھ بھر کے گورنمنٹ کالجز کو فنڈز سندھ گورنمنٹ جاری کرے گی اور یہ رقم کالجز کے اکاؤنٹ میں گیارہویں اور بارہویں جماعت میں داخلوں کی تعداد کے حساب سے ہر کالج کو براہ راست منتقل کی جائے گی۔

طلباء و طالبات کی گیارہویں اور بارہویں جماعت کی داخلہ فیس 550روپے تھی جس میں سے 340روپے حکومت سندھ کے اکاؤنٹ میں کالج انتظامیہ کی جانب سے جمع کروا دیئے جاتے تھے جبکہ 210روپے کالج اکاؤنٹ میں جمع ہوتے تھے لیکن صرف ایک سال میں یہ رقم کالجز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی مگر گزشتہ دو برس سے کالجز کو اس مد میں کوئی رقم ادا نہیں کی جا سکی ہے ۔

اس وقت کراچی کے تیس سے زائد کالجز ایسے ہیں جن کی بجلی عدم ادائیگی کی باعث منقطع ہے۔ گزشتہ برسوں میں جب کالجز میں داخلہ فیس وصول کی جاتی تھی تو کالجز اس فنڈز سے کالجز کی تعمیر و مرمت، کو آپریٹو اساتذہ کی بھرتی، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی ، ہفتہ طلباء اور اسپور ٹس کا انعقاد کیا جاتا تھا ۔ کالجز کے مالی بحران کے باعث کالجز کی حالت بھی اب گورنمنٹ اسکولوں کی طرح ہوتی جارہی ہے۔

2010ء میں گیارہویں اور بارہویں جماعت سائنس گروپ کی فیس 950 روپے جبکہ کامرس اور آرٹس کی فیس 770روپے تھی جس میں سے 330 روپے حکومت کی اکاؤنٹ میں جمع کروا دیئے جاتے تھے باقی ماندہ فنڈ کالج کے پاس موجود رہتا تھا لیکن حکومت سندھ نے 2010ء میں سی ایم سی فنڈ کو 100روپے سے پچاس روپے، یوٹیلیٹی فنڈ، 50 روپے سے صفر، بلڈنگ فنڈ 50، روپے سے صفر، لائبریری فنڈ 30روپے سے صفر، اسٹوڈینٹس ویلفیئر فنڈ 40، روپے سے صفر کر دیا اور باقی ماندہ فنڈ بھی 2017ء میں ختم کرکے کالجز کو مالی پریشانی سے دوچار کردیا تھا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment