جمعرات, 21 جنوری 2021


ضیاءالدین یونیورسٹی اوراوکسفم پاکستان کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط

 کراچی :  ضیاءالدین یونیورسٹی اور اوکسفم پاکستان کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے جس کا مقصد صنفی تشدد کے خلاف آواز اٹھانا اور مختلف شعبہ زندگی میں اس سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔

اوکسفم پاکستان کی جاننب سے صنفی ماہر سرتاج عباسی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یونیورسٹیز میں موجود طلبہ و طالبات میں صنفی ہراسگی سے متعلق شعور پیدا کرنا اور یونیورسٹی میں موجود ہراسگی کو کنٹرول کرنے والی انکوائری کمیٹی کے لئے ٹریننگ سیشن منعقد کروانا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ معاشرے میں موجود وہ برائیاں جو جنسی ہراسگی سے جنم لیتی ہیں انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

اس موقع پر ضیاالدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی لیول پر جنسی ہراسگی جیسی برائی سے متعلق بات کرنا بہت ضروری ہے تاکہ طلبہ و طالبات کو اپنے حقوق و فرائض کا اچھی طرح اندازہ ہو سکے ۔ضیاءالدین یونیورسٹی اور اوکسفم پاکستان کی جانب سے جن چند شرائط و ضوابط پر اتفاق کیا گیا ان میں ایچ ای سی کی جانب سے ہراسمینٹ کمپلینٹ سیل کا قیام، اور اعلی تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کے خلاف تحفظ سے متعلق ایچ ای سی کی پالیسی کے مطابق اپنی پالیسی کو مستحکم کرنا جو کہ ایچ ای سی او ر خواتین کے لیے بنائے گئے جنسی ہراسگی سے تحفظ کی ایکٹ 2010 سے لیا گیا ہے۔

اسکے علاوہ صنفی نشدد، دقیانوسی تصورات ، اور صنفی طاقت کے عدم توازن کی عکاسی کرنے لئے یونیورسٹی میں وال پینٹنگ کا اہتمام ، سوشل میڈیا پر نوجوانوں اور صنفی تشدد پر توجہ مرکوز کرنے والی چار اینمیٹد فلموں کی اسکریننگ میں ایک دوسرے کی مددکرنا، نیز طلبہ و اساتذہ کے ساتھ صنفی و دقیانوسی تصورات اور منفی معاشرتی اصولوں کے خلاف سیمنار منعقد کرنا شامل تھا۔ ضیاءالدین یونیورسٹی اور اوکسفم پاکستان کی جانب سے ہونے والی مفاہمتی یاداشت پر یونیورسٹی کے رجسٹرار کیپٹن ریٹائرڈ سید وقار حسین اور صنفی ماہر سرتاج عباسی نے دستخط کیے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment