منگل, 23 اکتوبر 2018


ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی

ویب ڈیسک: شہر میں پیرکومذید 8افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوگئے جس کے بعد رواں ماہ ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد117جبکہ رواں سال865 ہو گئی ہے لیکن صوبائی محکمہ صحت اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے مچھروں کے خاتمے کےلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جاسکے ۔ دوسری جانب ماہرین صحت نے شہر میں ڈینگی وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں کے اندر پانی کو ڈھانپ کر رکھیں ، صحن ، نالی ، پودوں اورکیاریوں میں پانی کھڑا نہ رہنے دیں ، اے سی کا پانی تبدیل کریں، فریج کی ٹرے کے پانی کو بھی روزانہ تبدیل کریں ، صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں ،گھروں میں جالیوں اور مچھر دانیوں کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پورے آستینوں والے کپڑوں کا استعمال کریں ۔ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے بتایا کہ ڈینگی وائرس ایڈیز ایجپٹی ایلوو پکٹس مادہ مچھر سے پھیلتا ہےیہ مادہ مچھر صاف پانی میں جنم لیتی ہے ۔اس کے کاٹنے کے 5سے 7دن بعدڈینگی وائر س کی علامات ظاہر ہونا شرو ع ہوجاتی ہیں جن میں

شدید تیز بخار ،ہڈیوں،کمر،سر اور انکھوں میں شدید درد ، متلی ، الٹی ،دماغ کا سن ہونا، جسم پر دھبے پڑنا،خون بہنا اورجھنجھلاہٹ کی طویل کیفیت طاری ہونا شامل ہیں اس سے جسم میں خون جمانے والے ذرات (پلیٹ لیٹ)اور انفیکشن سے بچانے والے خون کے خلیوں(وائٹ بلڈ سیل ) کی شدید کمی واقع ہو جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے جسم کے کسی بھی حصے سے خون بہہ سکتا ہےا ور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس لئے فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنے کرنا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مریضوں میں یہ دیکھا گیا ہے شروع کے 5سے7دن تیز بخار رہتا ہے جب بخا ر نارمل ہوتاہے تب پلیٹ لیٹ کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں یہ سلسلہ مذید 4سے5 دن جاری رہتا ہےاس لئے آخر کے 4سے5دن میں تقریباً روزانہ خون کے ٹیسٹ کرانا چاہیے تاکہ پلیٹ لیٹ کی کمی کی صورت پلیٹ لیٹ لگائے جاسکیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کا موسم مون سون کے بعد اگست سے شروع ہوتا ہےاکتوبر اور نومبرمیں یہ شدت اختیار کرکے اس قدر تیزی سے پھیلتا کہ اسے قابو کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ وبائی صورت اختیار کرجا تاہے اس کے تدار ک کے لئےحکومت کو چاہیے کہ اپریل ، مئی اور جون میں بارش سے قبل ہی لاروا کو ختم کردےتاکہ ڈینگی وائرس پھیل نہ سکے۔
 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment