اتوار, 17 نومبر 2019


ایمیزون جنگلات میں آتشزدگی کے بعد کاربن مونو آکسائیڈ گیس کا خوفناک اخراج

واشنگٹن: ناسا کےماہرین نے 7 اگست سے شروع ہونے والی ایمیزون جنگلات میں آتشزدگی کے بعد کاربن مونو آکسائیڈ گیس کا خوفناک اخراج دیکھا گیا ہے۔
 
امریکی خلائی ادارے نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ایمیزون جنگلات کی آگ ایب ایک چیلنج بن چکی ہے اور ناسا نے ایٹماسفیئرک انفراریڈ ساؤنڈر (اے آئی آر ایس) کے ذریعے یہ ڈیٹا حاصل کیا ہے ۔ یہ حساس آلات ناسا نے ایکو سیٹلائٹ پر لگائے گئے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ فضائی آلودگی، فضائی درجہ حرارت اور دیگر اہم معلومات جمع کرتا ہے۔
 
ناسا کے مطابق 8 سے 22 اگست کے درمیان 18 ہزار میٹر یا 5500 میٹر بلندی تک کاربن مونو آکسائیڈ کےآثار ملے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگل کی آگ نے فضا میں غیرمعمولی طور پر کاربن مونو آکسائیڈ خارج کی ہے جو تصویر میں سبز، پلیے اور گہرے سرخ رنگ میں نمایاں ہے۔ ہر رنگ فی ارب حصے کاربن مونو آکسائیڈ کو ظاہر کرتا ہے۔
 
 
’ سبز رنگ کا مطلب ہے کہ فضا میں ایک ارب میں سے ایک سو حصے کاربن ڈائی آکسائیڈ موجد ہے ۔ پیلا رنگ 120 حصے صے کاربن مونو آکسائیڈ کو ظاہر کرتا ہے۔
 
’ سبز رنگ کا مطلب ہے کہ فضا میں ایک ارب میں سے ایک سو حصے کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود ہے ۔ پیلا رنگ 120 حصے ارب بالحاظ حجم اور سرخ رنگت 160 حصے فی ارب کو ظاہر کررہا ہے۔ جبکہ دیگر مقامات پر کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار اس سے بھی ذیادہ ہوسکتی ہے۔‘ پریس ریلیز کے متن میں لکھا گیا۔
 
ہم جانتےہیں کہ کاربن مونو آکسائیڈ عالمی تپش اور کلائمٹ چینج میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ایمیزون جنگلات کی ہولناک تباہی سے خارج ہونے والی یہ گیسی کئ ماہ تک فضا میں برقرار رہے گی۔ پھر تیزرفتار ہواؤں سے یہ زمین کے قریب پہنچ کر مزید نقصان کی وجہ بن سکتی ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment