جمعہ, 24 جنوری 2020


آج دنیابھرمیں پہاڑوں کاعالمی دن منایاجارہاہے

مانیٹرنگ ڈیسک: ہر ملک میں پہاڑ ،دریا ، تفریح اور سیاحت کے حوالے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہے۔ پہاڑوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے آج دنیا بھر میں پہاڑوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔پہاڑوں کا عالمی دن منانے کا آغاز اقوام متحدہ کے تحت گیارہ دسمبر 2003ء میں کیا گیا

یہ عالمی دن منانے کا مقصد پہاڑوں کا قدرتی حسن برقرار رکھنے کے لئے اقدامات کا شعور اجاگرکرنا ہے، دنیا بھر کی اقتصادی ترقی میں پہاڑ ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں، دنیا بھر کی جنگلی حیات، جنگل، نیشنل پارک کا 56 فیصد پہاڑوں میں ہے۔ ۔۔۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو ( 8611 میٹر) اور نو ویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت ( 8126 میٹر) سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند 14 اولین چوٹیوں میں سے 5 پاکستان میں ہیں پاکستان کو بلاشبہ اگر پہاڑوں کا دیس کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو گا۔پاکستان میں شمال سے لے کر جنوب اور مشرق سے لے کر مغرب تک کئی ایک چھوٹے بڑے پہاڑی سلسلے واقع ہیں جو ملکی سیاحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 ملکِ پاکستان میں واقع ہیں۔ پاکستان میں پانچ ایسی بلند چوٹیاں ہیں جن کی بلندی چھبیس ہزار فٹ سے زائد ہے جبکہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اور نویں بلند چوٹی نانگا پربت بھی پاکستان میں واقع ہے۔نانگا پربت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اس کی اونچائی 8125 میٹر/26658 فٹ ہے۔ اسے دنیا کا قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کو سر کرنے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے-

سلسلہ کوہ قراقرم پاکستان، چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں واقع ہے۔ یہ دنیا کے چند بڑے پہاڑی سلسلوں میں شامل ہے۔ قراقرم میں 60 سے زیادہ چوٹیوں کی بلندی 7000 میٹر سے زائد ہےعالمی سطح پر ہر سال 5 کروڑ سیاح پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے ہیں پاکستان میں 7000 میٹر سے بلند 105 چوٹیاں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان قراقرم اور ہمالیہ کے مشہور اور عظیم پہاڑی سلسلوں کا مسکن ہے جہاں دنیا کا دوسرا بڑا پانی کا ذخیرہ کنکورڈیا کے گلیشیئروں میں بند ہے۔ یہ پہاڑ زیادہ تر برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں کوہِ ہمالیہ اور کوہِ پیر پنجال واقع ہیں۔* خیبرپختونخواہ کا سب سے بڑا پہاڑی سلسہ کوہِ ہندوکش ہے جو چترال اور دیر کے اضلاع میں واقع ہے

پنجاب کی طرف آئیں تو یہاں بھی چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جن میں کوہِ پیر پنجال، کالا چٹا کی پہاڑیاں، کِرانہ ہلز، کوہِ نمک(پوٹھوہار)، اور مارگلہ کی پہاڑیاں شامل ہیں سندھ کے مغرب میں بھی ایک پہاڑی سلسلہ واقع ہے جسے کوہِ کیرتھر کہتے ہیں۔ یہ سندھ کا اکلوتا پہاڑی سلسلہ ہے جو بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ پھیلا ہے-

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق میانمار سے چین، بھارت، بھوٹان، نیپال ، پاکستان اور افغانستان تک پھیلے ہمالیہ قراقرم اورہندوکش کے پہاڑی سلسلے ماحولیاتی خطرات سے دوچارہیں۔ کیونکہ پہاڑوں پر بسنے والے افراد اپنی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لئے جنگلات پر انحصار کرتے ہیں۔پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہونے والی درختوں کی تیس فیصد کٹائی کا ذمہ دار ٹمبرمافیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سیاحت، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اورموسمی تبدیلیوں کی وجہ سے پہاڑوں کا قدرتی حسن تباہ ہورہا ہے

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment