ھفتہ, 31 اکتوبر 2020


امریکامیں3 لاکھ 60 ہزارچینی طلبہ کامستقبل داؤ پرلگ گیا

واشنگٹن: قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکا نےایک ہزار چینی طلبہ اور محققین کے ویزے منسوخ کردیے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی محققین اورطلبہ کے ویزے 29 مئی کے صدارتی حکم نامے کے تحت منسوخ کیے ۔قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے جانے والے طلبہ اور محققین کے اس حکم نامے کے ذریعے امریکا میں داخلے سے متعلق مختلف پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

اس سے قبل گزشتہ روزامریکی دفتر خارجہ کے شعبہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے قائم مقام سربراہ چیڈ وولف کاکہنا تھا کہ مخصوص چینی طلبہ اور محققین کے چینی فوج سے اندرون خانہ رابطوں کی وجہ سے خطرہ ہے کہ وہ حساس تحقیقی مواد چوری کرسکتے ہیںنیزچین پر صنعتی شعبے اور کورونا وائرس سے متعلق ہونے والی تحقیق چرانے کے الزامات بھی دہرائے۔

دوسری جانب دفتر خارجہ نے کہا ہے جن چینی طلبہ و محققین کے ویزے ا امریکی صدارتی حکم نامے کے تحت منسوخ کیے ہیں ان کی تعداد ہر سال تعلیم و تحقیق کے لیے امریکا آنے والے چینی طلبہ کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ امریکا اپنے قوانین کے تحت آنے والے چینی محققین اور طلبہ کو خوش آمدید کہے گا۔

جون میں چین نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ اپنے طلبہ پر امریکا کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی مخالفت کرے گا۔ خیال رہے ایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکا میں 3 لاکھ 60 ہزار چینی طلبہ تعلیم و تحقیق کے لیے موجود ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment