جمعہ, 13 دسمبر 2019


گلگت بلتستان کو اپنی سول سروس بنانے کی اجازت مل گئی

 

ایمزٹی وی(گلگت بلتستان)وزیرِاعظم شاہدخاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے سب کاحق ہوتا ہے، لیکن اپوزیشن کا اختلاف اصولوں پر ہونا چاہیے انہیں حکومت کا مؤقف بھی سننا چاہئے۔
گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی منظوری کے موقع پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جی بی آرڈر پر گزشتہ 8 ماہ سے کام کیا جا رہا تھا، آج کا آرڈر چند روز کا کام نہیں تھا، بہت سے لوگ اختیارات کی منتقلی نہیں چاہتے تھے سب سے بڑی مخالفت ہماری حکومت کے اندرتھی لیکن آج (ن) کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ گلگت بلتستان کی اپنی سول سروس بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے پاکستان کی سول سروس میں بھی جی بی کو کوٹا دیاجائےگا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کا دن گلگت بلتستان کے لیے سنگ میل ہوگا، جوحقوق دیگرصوبوں کوحاصل ہیں وہی حقوق اب گلگت بلتستان کوحاصل ہیں، علاقے میں ترقی ہوگی اور آئین کے مطابق عوام کو بھی ان کے بنیادی حقوق حاصل ہوں گے، گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری کے پاس تمام ضروری اختیارات ہوں گے، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، ججز حتیٰ کہ گورنر بھی گلگلت بلتستان سے ہی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے رویئے پرحیران ہوں، ہمارے اس اقدام کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے اورکون کر رہا ہے ؟ اختلاف رائے اپوزیشن کا حق ہے لیکن اختلاف اصولوں پر ہونا چاہیے ہمارامؤقف بھی سنا جانا چاہئے۔ گلگت بلتستان میں عشروں سے بند سرکاری اسکیمیں (ن) لیگ نے مکمل کیں، جوکام کیے سب کے سامنے ہیں ہمیں اپنے ترقیاتی کاموں پر فخر ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment