جمعرات, 21 مارچ 2019


آج کی سماعت!ایسی درخواستیں سننے لگیں تو فیصلہ نہیں ہو گا

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے احتساب کے حوالے سے ریمارکس دیکر سب کو حیران کر دیا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ یہ کس نے کہا کہ صرف وزیرا عظم کا احتساب ہو رہا ہے اور کسی اور نے نہیں کیا تو باقی افراد کا احتساب نہیں ہو گا ۔ عدالت نے تمام فریقین کو دستاویز اور شواہد جمع کرانے کی ہدایت کی تھی اوردیگر درخواستوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا ۔
چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ان درخواستوں کو نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا کہا ۔”آپ تو چاہتے ہیں کہ تمام معاملات نیب کو بھجوا دیے جائیں “،
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیس کا فیصلہ جلد کرنا چاہتے ہیں ، ایسی درخواستیں سننے لگیں تو فیصلہ نہیں ہو گا ۔ ہر پیشی پر 8،10نئی درخواستیں آجاتی ہیں ۔ حاکم وقت کا معاملہ ہے ابتداءکرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
نیب اس معاملے کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دے چکا ہے ۔ ”ایسا لگتا ہے کہ ادارے صرف تنخواہوں کیلئے بنائے گئے ہیں ۔ اگر ہر درخواست کو سنتے رہیں تو مین کیس نہیں چلے گا ۔ اگر ایسے چلتا رہا تو مرکزی کیس کا فیصلہ نہیں کر پائیں گے ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment