بدھ, 20 نومبر 2019


بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں پر سابق صدر سیخ پا ہوگئے

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد)سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئے گا ،پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا،اگر ہم پرجنگ مسلط کی گئی تو ہم بھی سبق سکھائیں گے۔پاکستانی وفد کو بھارت بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا،پہلے تو ایئر پورٹ پر روکا گیا پھر کانفرنس بھی نہیں کرنے دی ۔
صدر پرویز مشرف نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس می ںشرکت پر انڈیا کے ناروا روئیے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی سکیورٹی حکام کی جانب سے پاکستانی صحافیوں کے وفد کو پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط سے ملاقات کرنے سے بھی روکاگیا،خواہ مخواہ پاکستان کا امیج خراب ہو ا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں وزیرخارجہ ہونا چاہیے،اور وزیر خارجہ ایسا شخص ہو جو بھارت جا کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا جانتا ہو۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پانی کو بند کرنا آسان نہیں،بھارت صرف پانی کوروک کر سیلاب کی صورت میں چھوڑ سکتا ہے بند نہیں کر سکتا، مگر ہماری سوئی کالا باغ ڈیم پراٹکی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے بھاشا ڈیم شروع کروایا تھا ، منصوبوں کو مکمل کرنا اگلی حکومتوں کی ذمہ دارہوتی ہے،اگر جنگ کی بات کی جائے تو جنگ سے دونوں ممالک کو بہت نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 2002 میں انڈیا پوری فوج آسام سیکٹر پر لے آیا اور ایسا ظاہر کر رہا تھا کہ جیسے جنگ کرنے لگا ہے، میں نے بھی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے تینوں مسلح افواج کو جنگ کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کردی تھی ۔ بھارتی فوج 10ماہ تک آسام سیکٹر پر بیٹھی رہی اورمیں نے للکار دیا کہ آجاو جنگ کرلیتے ہیں پر ان کی ہمت نہ پڑی، انہیں بھارتی میڈیا کی جانب سے گالیاں پڑیں اور خوب تنقید کانشانہ بننے کے بعد واپس چلے گئے۔انہوں نے مزیدکہا کہ اگر کچھ شہادتیں ہوں تو گھبرانا نہیں چاہیے، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم بھی سبق سکھائیں گے،ہم اپنے ملک کی بقا کے لئے ہر قدم اٹھا سکتے ہیں۔
مشرف مائنڈ سیٹ سے متعلق گردش کرتی باتوں پر انہوں نے موقف اختیار کیا کہ کھلی بات کرنا اور کسی سے نہ ڈرنا” مشرف مائنڈسیٹ “ ہے جبکہ میری سوچ تو پاکستان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔میں نے 10سال پاکستان کو ترقی سے چلایا،عوام کو خوشیاں دیں، روزگار میں اضافہ کیا اور ملک کے عزت و وقار میں بھی اضافہ کیا۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment