جمعرات, 02 اپریل 2020


پی آئی اے سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ۔۔۔۔۔۔۔

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)چیئر مین پی آئی اے اعظم سہگل نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے میں کوئی انسانی غلطی یا ٹیکنیکل ایرر دکھائی نہیں دیتا ،طیارے کا ایک انجن فیل ہوا جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔

طیارہ حادثے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طیارے کو اے چیک کے بعد قابل پرواز ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ ائیر ٹریفک اب بھی سب سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے ،ہم تسلیم کرتے ہیں ہمارا جہاز تھا ،ہمارے مسافر تھے لیکن حادثے میں انسانی غلطی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔چیئر مین پی آئی اے نے کہا کہ اے ٹی آر ایک فرانسیسی کمپنی کا بنا ہوا طیارہ ہے ،اس کی مینو فیکچرنگ میں کوئی خرابی نہیں ہے ،حادثے کا شکار طیارے کا بلیک باکس مل گیا ہے جسے ایس آئی بی کو بھجوائیں گے جہاں سے وہ ڈی کوڈ ہو کر واپس آئے گا ۔انہوں نے کہا کہ جب طیارے کی جانب سے مے ڈے کال دی گئی تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارے کا انجن فیل ہوا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے کا شکار جہاز 2007میں تیار ہوا تھا اور اسی سال پی آئی اے میں شامل ہوا تھا ،جہازوں میں خرابیاں ہوتی رہتی ہیں اور انہیں دور بھی کیا جاتا ہے ،پی آئی اے سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ خراب طیارے کو استعمال کرے گی ۔اعظم سہگل نے مزید کہا کہ اے ٹی آر طیارے سفر کے لیے انتہائی محفوظ سمجھے جاتے ہیں ،ہم پر امید تھے کہ ایک انجن پر طیارہ محفوظ لینڈنگ کر لے گا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ۔

loading...

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment