جمعرات, 22 اکتوبر 2020


سپریم کورٹ نے طیبہ کیس کا فیصلہ سنادیا

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ نے طیبہ کیس کا از خود نوٹس لے لیا۔
طیبہ تشدد ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران بچی کے والد اعظم نے کہا کہ وہ اردو نہیں بول سکتے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے ساتھ پنجابی میں بات کروں گا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ بچی بازیاب ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق طیبہ تشدد کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا دورکنی بنچ کررہا ہے ۔بنچ میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال کیس کی سماعت کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیسے پتہ چلا کہ بچی پر تشدد ہوا ہے؟بچی اسلام آباد کیسے پہنچی؟بچی کے والد اعظم نے جواب دیا کہ ٹی وی چینلز پر دیکھ کر پتہ چلا کہ بچی پر تشدد ہوا ہے۔ نادرہ بی بی بچی کو کام دلوانے کا کہہ کر لے گئی تھی۔ نادرہ نے کہا تھا کہ بچی فیصل آباد سے باہر نہیں جائے گی ،بچی کی ذمہ داری گھر میں بچوں کو کھلانا ہوگی۔اعظم نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ وہ جڑانوالہ کے رہنے والے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب بچی ملی تو اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے تو بچی کے والد نے جواب دیا کہ جی بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔اعظم نے کہا کہ پڑوسن نادرہ بی بی سے 3 ہزار تنخواہ طے ہوئی تھی اور 18 ہزار روپے ایڈوانس بھی دیئے گئے تھے۔

طیبہ کیس سپریم کورٹ حرکت میں آگئی

چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے کہ بچی گھبرائی ہوئی ہے۔طیبہ کو ملازمت کیلئے کب بھیجا گیا۔اعظم نے جواب دیا کہ 14 اگست 2016 ءکو نادرہ بی بی بچی کو لیکر گئی تھی۔نادرہ نے اس دوران دو مرتبہ طیبہ سے ہماری بات کرائی اور کہا کہ فکر نہ کریں جلد ہی طیبہ سے بھی ملاقات کرادے گی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ گھر میں ٹی وی ہے تو اعظم نے جواب دیا کہ گھر میں ٹی وی نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں بچی کے والد نے جواب دیا یہ میرے5 بچے ہیں،طیبہ سب سے بڑی ہے اور اس کی عمر 10 سال ہے۔

اسلام آباد پولیس نے طیبہ کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی ہے۔ پولیس کے مطابق طیبہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا بلکہ بچی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ طیبہ کی پہلی تصویر کا فرانزک جائزہ لیا جارہا ہے۔چیف جسٹس نے اسسٹنٹ کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا بچی ملنے کے بعد نادرہ سے رابطہ کیاگیا،کیا وجہ تھی کہ بچی کا بیان نہیں لیاگیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے جواب دیا کہ پولیس نے بازیابی کے بعد بچی کو میرے پاس بھیجا۔بچی کی میڈیکل رپورٹ آگئی ہے اور بچی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ بچی ہی اصل حقائق بتا سکتی ہے اور بچی کو اپنے والدین کے پاس نہیں رہنا چاہیے تاکہ بچی بغیر کسی خوف کے اپنا بیان ریکارڈ کرائے۔پاکستان سویٹ ہوم نے بچی کو لینے کی استدعا کی اور چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سب مشاورت کر لیں کہ بچی کو کس کے حوالے کرنا ہے۔جبکہ ڈی آئی جی اسلام آباد نے تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ سے دو ہفتوں کی مہلت مانگی جس کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا اور حکم جاری کیا کہ ڈی آئی جی اسلام آباد شفاف تحقیقات کرکہ حقائق کو سامنے لائیں۔ عدالت نے کہا کہ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد اسی روز سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment