پیر, 12 اپریل 2021


چوہدری نثار نےالزامات کی تردید کردی

 

ایمز ٹی وی(اسلام آباد) چوہدری نثار نے سپریم کورٹ میں خود پر لگائے گئے اعتراضات کا 64 صفحات پر مشتمل تحریری جواب اپنے وکیل مخدوم علی کے توسط سے جمع کرایا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ملک میں تمام سیکیورٹی ادارے پوری ذمے داری سے کام کر رہے ہیں، پاک فوج اور وزرات داخلہ نے مل کر دہشت گردی ختم کرنے کے لیے کام کیا۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پر لگائے جانے والے اعتراضات کا مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، کوئٹہ سانحے کے حوالے سے بلوچستان حکومت کی جانب سے صرف ایف آئی آر کا اندراج کرایا گیا اور بلوچستان حکومت نے لشکر جھنگوی اور مجلسل احرار کو کالعدم قرار دینے کا کہا ہی نہیں۔
وفاقی وزیر کا کہا ہے کہ کمیشن رپورٹ میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزارت اورادارے کارروائی سے ہچکچارہے ہیں اور وزارت داخلہ نےانٹیلی جنس اداروں سے شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دینے پررپورٹ مانگی حالانکہ ایسا کرنا غیر منطقی بات نہیں بلکہ طریقہ کار ہے۔
چوہدری نثار سے اپنےجواب میں موقف اختیار کیاہےکہ وزارت داخلہ نے اگست 2016 کے واقعے کے بعد فوری ایکشن لیا اور دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا عمل شروع کر دیا گیا اور ان شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دینے اور مکمل پابندی لگانے میں 3 ماہ لگے کیوں کہ دہشت گرد تنظیم پر پابندی فوری طور پر نہیں لگائی جاسکتی بلکہ اس کی نگرانی کی جاتی ہے، صرف میڈیا، سوشل میڈیا یا دہشت گرد تنظیم کے دعوے پر کالعدم قرار نہیں دے سکتے، سوشل میڈیا کے دباؤمیں پابندیاں لگائیں تواصل مجرمان تک نہیں پہنچ سکتے۔
وزیر داخلہ کے جواب میں موقف اختیار کیا کہ سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ لاہور چرچ دھماکوں کے بعد جماعت الاحرار پر پابندی نہیں لگائی اور مثال دی گئی کہ برطانیہ نے بھی جماعت الاحرار کو کالعدم قرار دیاہے، ہرملک کے اپنے قوانین ، اصول اور طریقہ کار ہے، پاکستان نے اپنے طریقہ کار کے مطابق تنظیموں کو کالعدم قرار دیا، لاہورچرچ حملے پر پنجاب حکومت نے بتایاتھا کہ ذمہ داروں کاتعلق ٹی ٹی پی سے ہے لشکرجھنگوی العالمی، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی تحریک طالبان مہمند سے منسلک ہیں اور لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان مہمند کو 2001 میں کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: شرم سے ڈوب مرو تم، تم پر لعنت ہو
جواب میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں چوہدری نثار اور مولانا احمد لدھیانوی کی ملاقات کا الزام لگایا گیا، جس ملاقات کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ دفاع پاکستان کونسل سے ملاقات تھی اور وزیر داخلہ کے علم میں نہیں تھا کہ مولانا سمیع الحق کے ساتھ احمد لدھیانوی بھی ہوں گے، آبپارہ میں جلسہ دفاع پاکستان کونسل کا تھا اوراسی جماعت کو این او سی دیا گیا تھا کمیشن نے دفاع پاکستان کے جلسے کو اہلسنت والجماعت کا جلسہ قرار دے دیا، وزیر داخلہ سےاسلام آباد میں جلسہ کی اجازت نہیں لی گئی اسلام آباد میں جلسے کرنے کا اجازت نامہ وزیر داخلہ نہیں دیتا اور اہلسنت والجماعت کو بھی اسلام آباد میں جلسہ کی اجازت متعلقہ انتظامیہ نے دی۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment