بدھ, 21 اکتوبر 2020


رحمان ملک افغان فوج کے رد عمل کے منتظر

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات قابل مذمت ہیں ،پاک فوج نے ہمیشہ کی طرح اب بھی قومی توقعات کو پورا کیا ہے ،پاک فوج کا دہشت گردوں کے خلاف دیا جانے والا جواب انتہائی موثر ہے ،پاک فوج نے افغانستان کے اندر گھس کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے ،اب دیکھتے ہیں کہ افغان فوج کیا رد عمل دیتی ہے ۔
میڈیا ذرائع کے مطابق سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں کی ڈرگز کے ساتھ مالی مدد اور فنانسسنگ کر رہا ہے ،دہشت گردوں کو ٹریننگ بھی وہیں سے مل رہی ہے ،محفوظ پناہ گاہیں بھی وہیں ہیں ،پوری قوم فوج کی افغانستان کے خلاف کی جانے والی سرجیکل اسٹرائیک پر دل سے ساتھ ہے ،افغان حکومت جب تک دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنا نہیں چھوڑے گی خطے میں امن ممکن نہیں ہے ۔رحمان ملک کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر خود کش حملے کے بعد دی جانے والی اسٹیٹمنٹ انتہائی پروفیشنل فوجی سپہ سالار کا بیان ہے۔
داعش کا سندھ میں مزار پر خود کش واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنا میرے بیان کی توثیق ہے کہ پاکستان میں داعش وجود پکڑ رہی ہے لیکن جب میں داعش کے حوالے سے بات کرتا تھا تو مجھے جھٹلایا جا تا تھا ،آصف زرداری یا بلاول نے کسی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا ،افغانستان کو اسی انداز میں ڈیل کرنا چاہئے جیسے کوئی ایک اسٹیٹ کسی دوسرے ملک کو ڈیل کرتی ہے ،عالمی سطح پر پاکستان اور اسلام کے خلاف ہونے والی باتوں کو ہمیشہ رَد کیا ہے ،بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘دہشت گردی کرنے میں نمبر ون ہے ،بھارت نے پاکستان اور افغانستان میں اپنا جال بچھایا ہوا ہے ،ہمیں بڑے محتاط ہو کر اس خطرے سے نبٹنا ہے ، القائدہ کو بنانے کے لئے امریکہ اور سی آئی اے نے جو ماڈل بنایا تھا اسی ماڈل پر بھارت داعش کے حوالے سے کام کر رہا ہے ۔
 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment