بدھ, 19 مئی 2021


علی موسیٰ گیلانی کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد )سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے فیصلہ کے خلاف انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کی طرف سے دائر اپیل خارج کر دی۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آزادانہ نقل و حرکت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور علی موسیٰ گیلانی کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کا کہنا تھا کہ اے این ایف موسیٰ گیلانی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لئے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرے کیونکہ مقدمہ وہاں زیرسماعت ہے۔ اس دوران انسداد منشیات فورس کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے موسیٰ گیلانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے حقائق کو مدنظر نہیں رکھا۔
سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی اجازت دے۔ عدالت کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ ڈرگ کورٹ میں موسیٰ گیلانی کے خلاف ریفرنس زیرسماعت ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ علی موسیٰ گیلانی 5 مرتبہ عدالت سے اجازت لے کر بیرون ملک گئے اور واپس آئے۔ لوگوں کے نام اسی طرح ای سی ایل میں شامل نہیں کئے جاتے۔
ای سی ایل میں نام رکھنے کا کوئی جواز بھی موجود نہیں ہے جبکہ آزادانہ نقل و حرکت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر انسداد منشیات فورس موسیٰ گیلانی کا نام ای سی ایل میں شامل کرانا چاہتی ہے تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرے۔ یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے علی موسیٰ گیلانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment