پیر, 26 اکتوبر 2020


غیرت کے نام پر قتل ،زنا ، اور زیر حراست تشدد سنگین جرم قرار

ایمز ٹی وی ( اسلام آباد) اسلام آباد: سینیٹ نے غیرت کے نام پرقتل، زیرحراست تشدد، ہلاکت، زنابالجبر اورشہادت کے قوانین میں ترامیم سمیت 4بل اتفاق رائے سے منظور کرلیے جبکہ قواعدمیں کمیٹیوں کے اجلاس بلانے سے قبل متعلقہ وزیرسے مشاورت کے الفاظ کونکالنے کی ترمیم متعلقہ کمیٹی کوبھجواتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔چیرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں غیرت کے نام پرقتل کے ضابطہ فوجداری1998 اورقانون شہادت آرڈر1984 میں مزیدترمیم کے بل سینیٹر صغریٰ امام نے پیش کیے۔ انھوں نے نجکاری کمیشن ترمیمی بل2013 بھی پیش کیاجس کی منظوری دی گئی۔ زیرحراست تشدد، زیرحراست ہلاکت اور زیرحراست زنابالجبر کے عوامل سے روک تھام کا بل فرحت اﷲ بابرنے پیش کیا۔ زیرحراست ہلاکت وزنا پر 30 لاکھ روپے جرمانے اور عمرقید، زیرحراست تشددپر 5سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانے جبکہ تشددکے ذریعے حاصل بیان کو شہادت کے طورپر قبول نہ کرنے کے ساتھ یہ بھی تجویزدی گئی کہ جنگ، ایمرجنسی یاسیاسی عدم استحکام کی صورتحال ہی کیوں نہ ہو، ان بلوں پر عملدرآمد سے احترازنہیں کیا جائے گا۔ یہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔

کسی ملزم کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی خاتون کوحراست میں نہیں لیا جاسکے گا۔ اسی طرح ایک عورت ہی کسی عورت کو اپنی حراست میں لے سکے گی۔ تحقیقات 14روز کے اندرمکمل کی جائیںگی اورمقدمات 4ہفتوں میں نمٹائے جائیں گے۔ کسی بھی اپیل کی صورت میں متعلقہ ہائیکورٹ میں 10روزکے اندراپیل دائرکی جائے گی جس کافیصلہ 30روز کے اندرکیا جائے گا۔ بدنیتی سے کی گئی شکایات پرایک سال کی سزااور ایک لاکھ روپے جرمانہ کیاجائے گا۔سینیٹر طلحہ محمودنے پاک چین سرحد پرسوست چیک پوسٹ پر پیراملٹری فورس تعینات کرنے کی قرارداد پیش کی۔ جس کی حکومت نے مخالفت نہیں کی۔ سیف اللہ مگسی نے کہاکہ اسلام آباد میں فراہم کیا جانے والا 59 فیصد پانی مضرصحت ہے؟ طلحہ محمودنے کہاکہ سی ڈی اے اپناکام درست طریقے سے نہیں کررہا۔ چیئرمین نیر بخاری نے دونوں معاملات متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوادیے۔ بعدازاں اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ قبل ازیں سینیٹ بزنس ایڈوائزری کمیٹی اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ حالیہ اجلاس 11مارچ تک جاری رہے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment