جمعہ, 04 دسمبر 2020


جوڈیشل کمیشن ہوتا اور نواز شریف پیش ہوتے تو مزہ آتا، اعتزازاحسن

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماءاعتزاز احسن نے پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گریڈ 19 اور 20 کے افسران کیا کریں گے۔ اسٹیٹ بینک کا گورنر ان کے گھرانے کا فرد ہے جبکہ آئی ایس آئی کیساتھ بھی شریف برادران کے خاندانی تعلقات ہیں۔ سپریم کورٹ نے ٹھیک کہا تھا کہ یہ فیصلہ یاد رکھا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ گریڈ 19 اور 20 کے افسران کیا تحقیقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر بھی بنی تھی جہاں 14 افراد شہید ہوئے، مگر اس کا کیا بنا؟ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن ہوتا اور نواز شریف پیش ہوتے تو مزہ آتا، جوڈیشل کمیشن میں نواز شریف سے جرح کی جاتی، ان کے بچوں سے جرح کی جاتی۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ شریف برادران پر نرم ہاتھ رکھا جاتا ہے، یہ سپریم کورٹ پر حملہ کرتے ہیں پھر بھی کچھ نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ سلام پیش کرتے ہیں ان دو ججوں کو جنہوں نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا جبکہ تین اکثریتی ججوں نے بھی کہا کہ نواز شریف اپنی صفائی میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا جائیداد وں میں کلیدی کردار ہے لیکن اسے چھوڑ دیا گیا جبکہ قطری کاغذ ایک ردی کا ٹکڑا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گریڈ 19 اور 20 کے افسران کیا کریں گے، سٹیٹ بینک کا گورنر تو خود ان کے گھرانے کا فرد ہے ، وہ کیا تحقیقات کرے گا جبکہ آئی ایس آئی سے شریف برادران کا تعلق خاندانی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان، سراج الحق درخواست دہندگان تھے، وہ نظرثانی کیلئے جا سکتے ہیں۔
 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment