اتوار, 25 اکتوبر 2020


خبردار! بے نام امیدوار

ایمزٹی وی(اسلام آباد) پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کر دی۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق پاکستان نے انسداد بے نامی بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا۔ جس کے مطابق جعلی اور فرضی ناموں پر خریدی گئی جائیداد بے نامی کہلائے گی۔ وفاقی حکومت بے نامی جائیداد کو ضبط کر سکے گی۔ کمپنی کے ڈائریکٹرز، ٹرسٹیز اور پارٹنرز کے نام خریدی گئی جائیداد بے نامی نہیں ہو گی جب کہ بیوی، بچوں، بہن بھائیوں اور ظاہر اثاثوں سے خریدی گئی جائیداد بے نامی نہیں ہو گی۔
دستاویز کے مطابق بے نام دار کو ایک سے سات سال تک کی سزا سنائی جا سکے گی جبکہ جائیداد کی مالیت کا 25 فیصد جرمانہ بھی لگایا جا سکے گا۔ جعلی کاغذات پیش کرنے والے پر چھے ماہ سے 5 سال تک کی قید کی سزا اور جائیداد کی قیمت کا دس فیصد جرمانہ لگایا جا سکے گا۔ قانون کے مطابق ڈرائیوروں اور ملازمین کے نام پر بنک اکائونٹس کھلوانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بے نامی بنک اکاونٹس میں پکڑی جانیوالی تمام رقم ضبط کر لی جائے گی۔ قانون کا اطلاق منقولہ اورغیرمنقولہ جائیداد اور کیش پر ہو گا

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment