جمعرات, 29 اکتوبر 2020


غیر مسلم لڑکی کی شادی کے حوالے سے بل منظور

ایمزٹی وی(اسلام اباد)پارلیمنٹ نے کم عمر اور غیر مسلم لڑکی کی زبردستی شادی کرانے والوں کیلئے شکنجہ تیا ر کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے فوجداری ترمیمی بل 2016ءمنظور کر لیا ہے۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ کم عمر لڑکی یا غیر مسلم عورت کی زبردستی شادی کرانے والوں کو دس سال تک کی سزا دی جائے۔ زبردستی شادی کرانے پر دس لاکھ تک جرمانہ بھی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو دونوں سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ بل میں مذہبی جذبات مجروح کرنے یا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے پر 3 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ کسی گروہ یا فرد کی جانب سے کسی بھی ملزم پر تشدد کی صورت میں تین سال تک قید کی سزا ہوگی۔ تشدد کے نتیجے میں ملزم کی ہلاکت پر دیگر سخت قوانین کا اطلاق بھی ہو گا۔ بل میں موبائل فونز پر رانگ کال‘ غلط ای میل یا ایس ایم ایس کرنے والوں کیلئے بھی سزائیں تجویز کی گئی ہیں جبکہ قانون شہادت میں ترمیم بھی بل کا حصہ ہے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment