جمعہ, 06 دسمبر 2019
×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 46


بلوچستان میں مزہبی شدت پسندی..

ایمز ٹی وی(بلوچستان)ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی شدت پسندی کے لیے جگہ پیدا کی جارہی ہے۔ کمیشن کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوئٹہ اور تربت کا دورہ کیا۔اس دورے کے دوران مشن کے اراکین نے زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقاتیں کیں-اس دورے کے دوران مشن کے اراکین کو یہ بتایا گیا کہ ان واقعات میں اگرچہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں کمی آئی ہے تاہم بعض علاقوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ینھوں نے مزید کہا کہصوبے میں مذہبی شدت پسندی بڑھ رہی ہے اور کالعدم مذہبی جماعتوں کو موقع دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کہ وہ یہاں پر اپنی جڑیں قائم کرسکیں اور فرقے کی بنیادپر لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔‘’بلوچستان کے حوالے سے یہ ایک تشویشناک بات ہے-اس موقع پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بلوچستان چیپٹر کے سربراہ سردار طاہرحسین ایڈوکیٹ نے بتایا کہ کمیشن کے پاس گزشتہ پانچ سال کے دوران لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں جو ڈیٹا ہے اس کے مطابق ان میں ایک لاکھ آباد کار، دولاکھ ہزارہ اور اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے لوگ اور دس ہزار ہندو کمیونٹی کے لوگ شامل ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment