پیر, 17 جون 2024


جماعتِ اسلامی نے عیدالاضحیٰ کے بعد لانگ مارچ کا اعلان کر دیا

 

ایمز ٹی وی (پشاور)جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ اگر اس نے عید الاضحیٰ سے قبل وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا تو عید کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے کے دوران خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کارکنان اور قبائلیوں پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد میں لانگ مارچ کی تیاری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت مطالبات پورے نہیں کرتی تو وہ خود اس لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام فرسودہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے انگریزوں کے دور کے اس نظام کو مسترد کردیا ہے جس میں صرف کرپٹ لوگوں کے مفادات ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ا

نہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اب تک یقین نہیں آرہا کہ وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو بن چکے ہیں جبکہ انہیں ہی فاٹا کے مستقبل کے لیے نمایاں اقدامات کرنے ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نے پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جہاں انہوں نے فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے اور ایف سی آر کو ختم کرنے کے حوالے سے نعرے بازی بھی کی۔ خیال رہے کہ رواں ماہ 11 اگست کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی فاٹا اصلاحات کو نافذ کرنے کے حوالے سے حکوت پر دباؤ دینے کے لیے اسی جگہ پر دھرنا دیا تھا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ قومی اسمبلی کو الیکشن بل 2017 پاس کرنے کے بجائے فاٹا اصلاحاتی بل پاس کرنا چاہیے تھا اور 2018 کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا کو نمائندگی دینے کا اعلان بھی کرنا چاہیے تھا۔ ا

ن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فاٹا اصلاحات رپورٹ کو نافذ نہ کرکے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کو امداد بند کرنے کی دھمکی اور پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگانے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور دوسری جانب اپنی پالیسی پر سزا دینے کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اپنی فرسودہ پالیسی کی وجہ سے ہونے والی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرا رہا ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment