ھفتہ, 28 نومبر 2020


اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبات سراپااحتجاج

پشاور: اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں اساتذہ کے ہاتھوں طالبات کو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر گورنر خیبر پختونخوا نے انکوائری کا حکم دے دیا۔

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبات کا ادارے میں ہراسمنٹ واقعات کے خلاف احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر انسپکشن ٹیم کو شفاف انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے 3 دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔

Javed Aziz Khan's tweet - "This is a very serious issue. Female students of  the historic Islamia College University Peshawar, joined by male students,  protest against harassment in university (and other universities)

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا، ہراسانی میں ملواث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اسلامیہ کالج سمیت تمام اعلی تعلیمی جامعات میں طالبات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا، اپنی بچیوں کی عزت و وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ دنوں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبات نے ادارے میں ہراسمنٹ واقعات کیخلاف وائس چانسلر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا جس میں طلباء بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کیخلاف نعرے بازی کی۔

University students hold protest against sexual harassment

مظاہرین نے کہا کہ اساتذہ پرچوں کی چیکنگ اور تحقیقی مقالوں کے دوران طالبات کو ہراساں کرتے ہیں، کالج میں انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو کوئی تحفظ نہیں دیا جارہا، انہوں نے اسلامیہ کالج میں زیر تعلیم طالبات کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment