جمعہ, 15 نومبر 2019


مصباح الحق تذبذب کا شکار

لاہور: کوچ بنوں یا نہیں، مصباح تذبذب کا شکار نظر آنے لگے جب کہ سابق کپتان کا کہنا ہے کہ افواہیں چل رہی ہیں ابھی تک درخواست نہیں دی۔
 
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ میں نے ہیڈ کوچ کیلیے درخواست جمع نہیں کرائی، ابھی تک افواہیں ہی چل رہی ہیں، میں نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، فی الحال چیف سلیکٹر اور ٹیم مینجمنٹ نہیں ہے۔ اس لیے کیمپ کمانڈنٹ کی ذمہ داری قبول کرلی تاکہ کرکٹرز کو آئندہ ایونٹس کیلیے تیار کرنے میں کوئی کردار اداکرسکوں۔
 
مفادات کا ٹکراؤ ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں اگر کوچنگ کیلیے امیدوار بنا تو کرکٹ کمیٹی کی رکنیت چھوڑ دوں گا، اگر کوچ یا سلیکٹر کے عہدوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو استخارہ کروں گا،ایک ہی شخص کے چیف سلیکٹر اور کوچ ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ 15رکنی اسکواڈ میں سے پلیئنگ الیون کے انتخاب پر اٹھنے والے اعتراضات ختم ہوجائیں گے،اس میں ذمہ داری کا بوجھ ضرور بڑھے گا،یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ چیف سلیکٹر کے مددگار لوگ کیسے ہیں۔
رمیز راجہ کی طرف سے دفاعی اپروچ کی وجہ سے ہیڈ کوچ کیلیے غیر موزوں قرار دیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ہر شخص کی اپنی رائے ہے۔ لوگ تنقید کرتے ہیں لیکن میں اپنا کام جاری رکھوں گا، میں نے لیول ٹوکورس کیا ہوا ہے، میں ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھتا ہوں،سوئی ناردرن گیس اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت کرنے کے ساتھ پشاورزلمی کیلیے کھیلتے ہوئے بھی کرکٹرز کی رہنمائی کرتا رہا۔
 
کپتان سرفراز احمد کو تبدیل کرنے کے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ اگر پی سی بی سمجھتا ہے کہ ان پر بوجھ زیادہ ہوگیا تو ایسا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، حکام اس بارے میں سوچ بھی رہے ہوں گے تاہم حتمی فیصلہ کرنا بورڈ کی صوابدید ہے۔
 
لاہور میں جاری پری سیزن کیمپ میں کئی پرفارمرز کو نظر انداز کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ فی الحال سب سے زیادہ توجہ سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز پر دی گئی، چند مزید کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا گیا ہے، دیگر چند کھلاڑی ہائی پرفارمنس کیمپ میں بھی ٹریننگ کیلیے موجود ہوں گے،ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے کرکٹرز کی کارکردگی پر آئندہ سلیکشن کمیٹی نظر رکھے گی۔
 
انھوں نے کہا کہ ایک غلط فہمی دور ہوجانا چاہیے کہ پری سیزن کیمپ میں شرکت کرنے والے کرکٹرز کو ہی سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز کیلیے زیر غور لایا جائے گا،اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہی کھلاڑی 15رکنی اسکواڈ میں شامل ہوں گے،ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے پلیئرز میں سے کسی کی کارکردگی اور فٹنس بھی اعلیٰ معیار کی ہوئی تو اسے منتخب کیا جا سکتا ہے۔
 
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ صوبائی ٹیموں کیلیے پول گذشتہ کارکردگی کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، 3رکنی پینل میں اپنے ساتھیوں راشد لطیف اور ندیم خان کی مشاورت سے فہرست پر نظرثانی کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کرنے کی کوشش کریں گے۔
 
مصباح الحق نے کہا کہ قومی کرکٹرز کی فٹنس میں بہتری ضرور آئی لیکن خامیاں موجود اورمزید کام کرنے کی ضرورت ہے، کیمپ میں بھی کھلاڑیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہوں کہ فٹنس کیلیے ٹریننگ کو اپنی عادت بنائیں،ان کو خوراک، کیلوریز اور وزن کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ہے، ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، ان سب چیزوں کو اپنے معمولات میں شامل رکھا جائے تب ہی کھلاڑی خود کو ہمہ وقت چیلنجز کیلیے تیار رکھ سکتا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment