پیر, 24 ستمبر 2018


پاکستان سپر لیگ کرکٹ کی دنیا میں ایک نیامحاذ

 

ایمزٹی وی(رپورٹ)پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن کی کامیابی کے بعد پی ایس ایل سیزن 2کا شاندار آغاز 9 فروری کو دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ سے ہوا۔

پاکستان سپر لیگ سیزن 2 کی افتتاحی تقریب میں معروف گلوکار و اداکار علی ظفر اور گلوکار شیگی پی ایس ایل کا ترانہ " اب کھیل جمے گا "پر پرفارم کرتے ہوئے نظر آئیں ۔سپر لیگ میں قومی کر کٹر کے علاوہ 30 غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوئے۔ اس لیگ کا مقصد بین ا لاقوامی کرکٹ ٹیموں کو پاکستان میں کھیلنے میں آمادہ کرنا اور پاکستان میں کرکٹ کا فروغ تھا۔پاکستان سپر لیگ کے لیے منفردٹرافی بنائی گئی جسے " اسپریٹ ٹرافی"کا نام دیا گیا۔

پاکستان سپر لیگ کے نام سے ہو نے و الے اس ایونٹ میں پانچ ٹیمیں شریک تھیں جن میں مصباح الحق دفاعی چیمپئنز اسلام آباد یونائٹیڈ کی نمائندگی کی جبکہ پشاور زلمی کی کپتانی ڈیرن سیمی کو سونپی گئی ۔اسی طرح سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈیٹرز، سنگاکارا کراچی کنگز اور برانڈن میک کولم لاہور قلندرز کی کپتانی سنبھالی۔اس لیگ کے دوران مجموعی طور پر 24 میچزدبئی اور شارجہ میں کھیلے گئے جبکہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میںکھیلاگیا۔

پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ہر ٹیم نے مخالف ٹیم سے 2 میچز کھیلے ۔پاکستان سپر لیگ کے فیصلہ کن راو¿نڈ کے پہلے پلے آف میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو سنسی خیز مقابلے کے بعد1 رن سے شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔ دوسرے پلے آف میں کراچی کنگز نے دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کو44 رنز سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیااور آخری پلے آف میںپشاور زلمی نے کراچی کنگز کو 24 رنز سے شکست دے کر فائنل کے لئے کوالیفائی کیا۔جبکہ یاد رہے کہ لاہور قلندر سب سے پہلے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی ٹیم رہی۔

 


پاکستان سپر لیگ کرکٹ کی دنیا میں ایک نیامحاذ by aimstv_tv

 

پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیموں کو لاہور میں منعقدہ فائنل مقابلے کیلئے کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے اعلیٰ معیاری سیکیورٹی فراہم کی گئی۔

5ما رچ 2017 کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میچ سے قبل رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں نامور گلوکاروں نے فن کا شاندار مظاہرہ کیا اور شائقین کے دل موہ لیے، تقریب کے دوران اسٹیڈیم پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتا رہا جبکہ شائقین کرکٹ نے جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔پلے آف میں زخمی ہونے والے شاہد آفریدی گراوآنڈ میں پہنچے تو پورا گراوآنڈ ”لالہ لالہ“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔

پاکستان سپرلیگ کے سب سے بڑے معرکے میں پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 148 رنز بنائے جس کے جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز صرف 90 رنز تک محدود رہی اور یوں انہیں 58 رنز سے شکست ہوئی۔

ڈیرن سیمی کو جارحانہ اننگز کھیلنے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا ٹورنامنٹ میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کامران اکمل کو بہترین کھلاڑی اور بہترین بلے باز کا ایوارڈ دیا گیا جب کہ سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے پر کراچی کنگز کے سہیل خان کو ٹورنامنٹ کے بہترین بولر کا ایوارڈ ملا۔

پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زندہ دلان پاکستان آپ کا بہت بہت شکریہ، آپ نے ہماری حوصلہ افزائی کی، پاکستان کی کرکٹ، پی ایس ایل آپ کا اثاثہ ہے،اگر آپ کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو شاید پی ایس ایل کے فائنل کا میلہ لاہور میں نہ سج سکتا،آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستانی مہذب اور پر امن لوگ ہیں۔ ہمیں کرکٹ کھیلنی بھی اور کھلانی بھی آتی ہے۔ آج جیت پاکستان کی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل کے دوران شرجیل خان اور خالد لطیف پر بکی محمد یوسف سے ملاقات کرنے کے الزامات لگے تھے جس پر دونوں کھلاڑیوں کو پی ایس ایل سے باہر کر دیا گیا تھا اورچارج شیٹ بھی جاری کی گئی تھی تاہم دونوں کھلاڑیوں نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کر تے ہوئے کہا کہ مجھ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔پی سی بی نے اسپارٹ فکسنگ کے الزمات کی تحقیقات کے لئے 3 رکنی کمیشن تشکیل دے دی ہے جو ان پر لگے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

پشاورزلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ پاکستان آکر بہت خوشی ہورہی ہے اور فائنل کے انتظامات سے پوری طرح مطمئن ہوں، یہاں آکر بہت پیار ملا ہے، اورکرکٹ کی جیت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے میری نیک خواہشات پی سی بی کے ساتھ ہیں۔

پی ایس ایل کو بین الاقوامی سطح بھی بہت سرہاےا گیا۔ بر طانوی اخبار ڈیلی میل نے لکھا کہ ڈیلی میل نے لکھاکہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میںہونے سے پاکستان میںانٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کی امید پیچا ہوگئی ہے۔ بی بی سی، وائس آف امریکا بھی پاکستان کی کامےابی کی تعریف کرتا ہوا نظر آیا۔

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک زبردست کوشش ہے جسے ہم سب کو سرہانا چاہیے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment