منگل, 18 ستمبر 2018


سات تعلیمی بورڈز کے ناظم امتحانات کے لئے امیدواروں کے انٹرویوتذبذب کا شکار

 

ایمزٹی وی(تعلیم/ کراچی)وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت ادارہ محکمہ بورڈ و جامعات کے تحت تلاش کمیٹی سندھ کے سات تعلیمی بورڈز کے ناظم امتحانات کے لئے امیدواروں کے انٹرویو کے معاملے میں تذبذب کا شکار ہے، کیوں کہ غیر سرکاری اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کو انٹرویو کے عمل سے باہر کر دیا گیا ہے جب کہ صرف سرکای امیدواروں کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا ہے جس کی وجہ سے بھرتی کا عمل ہی غیر شفاف ہو گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جامعات و تعلیمی بورڈز محمد حسین سید اور ان کے ڈپٹی قائم مقام ایڈیشنل سیکرٹری معین الدین جب گورنر سندھ عشرت العباد خان کے پاس بالترتیب پرنسپل سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری کے عہدوں پر تعینات تھے اور اس وقت تعلیمی بورڈز گورنر کے ماتحت تھے تو اس دوران تعلیمی بورڈز میں نہ صرف باہر کے کنٹرولرز اور دیگر افسران تعینات ہوتے تھے بلکہ دیگر افسران کی براہ راست بھرتی کا عمل بھی جاری رہتا تھا تاہم اب وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت تعلیمی بورڈز آنے کے بعد ناظم امتحانات اور سیکرٹریز کے عہدوں کے لئے صرف سرکاری
امیدوار ہی اہل قرار پاتے ہیں۔ ڈپٹی سیکرٹری بورڈ معین الدین کے مطابق بورڈز کے قواعد کے مطابق صرف سرکاری امیدوار ہی ناظم امتحانات اور سکریٹری کے عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ناظم امتحانات اور سیکرٹریز کے عہدوں کے لئے بھرتی کا عمل کنٹریکٹ پر ہو رہا ہے اور بورڈ کے کلینڈر میں ان کی مدت دو سال ہے جبکہ جو اشتہار دیا گیا ہے اس میں مدت چار سال درج ہے۔ ادھر میٹرک بورڈ کراچی کے منتخب ممبر بورڈز غلام عباس بلوچ نے غیر سرکاری امیدواروں کو انٹرویو کے عمل سے باہر کرنے کو افسوس ناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ محکمہ بورڈ و جامعات نے سارا عمل مشکوک کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میٹرک بورڈ کراچی سے70فیصد اسکولوں کا تعلق نجی شعبے سے ہے جب کہ صرف30 فیصد سرکاری اسکول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بورڈ سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں کو یکساں الحاق دیتا ہے اور نجی اسکولوں کے اساتذہ کی قابلیت بھی کسی طور پر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ سے کم نہیں ہوتی جب کہ نتائج سرکاری اسکولوں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں تو پھر ناظم امتحانات کے لئے غیر سرکاری امیدواروں کو یکساں مواقع کیوں نہیں دیئے جارہے ؟۔اہد معلوم ہوا ہے کہ ناظم امتحانات کے انٹریوز بورڈ کے بعض ملازمین کی جانب سے چیلنج کئے جانے کے باعث ملتوی کئے جارہے ہیں۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment