ھفتہ, 30 مئی 2020


گورنمنٹ اسکول پرقبضےکےلیےلینڈمافیاکی تیاریاں،کےڈی اےاوراینٹی کرپشن سےسازبازکرلی

  کراچی: کراچی فیڈرل بی ایریا بلاک 6 میں کروڑوں روپے کی زمین پرقائم گورنمنٹ منیبہ اسکول پر ایک بار پھر لینڈ مافیا نے قبضے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اس بار محکمہ اینٹی کرپشن اور کے ڈی اے کے محکمہ لینڈ کی ملی بھگت سے کسی اور کے نام موٹیشن بھی حاصل کرلی گئی ہے اس اسکول پر گزشتہ 10سال سے قبضے کی کوشیں ہو رہی تھیں اسکول پر قبضہ کی وجہ سے300 سے زائد غریب بچوں کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔ سابق وزیرتعلیم پیرمظہرالحق کے دور میں ایک نہاری کے ہوٹل کے مالک نے محکمہ تعلیم کی ملی بھگت سے اس کا قبضہ حاصل کرلیا تھا جس کا نوٹیفکیشن اس وقت کے سیکریٹری تعلیم علم الدین بلو نے جاری کیا تھا جس پر احتجاج شروع ہوا اس دوران علم الدین بلوکو ہٹادیا گیا اورناہیدشاہ درانی سیکریٹری تعلیم ہوگئیں جنہوں نے معاملے کی تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ اسکول کے اصل مالک کا وجود ہی نہیں سب کام جعلی ہے اور بھاری کرپشن کرکے اس کو فروخت کیا گیا ہے جس میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام بھی ملوث ہیں جس پر انہوں نے اسکول واپس کرنے کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا.
 
جس پر وزیرتعلیم پیرمظہرالحق سخت ناراض ہوئے اور ان کے اور ناہیدشاہ کے درمیان اختلافات ہوگئے اوروزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ جو ناہیدشاہ کے والد بھی تھے مجبوراً ناہیدشاہ کو ہٹاناپڑگیا بعد ازاں کچھ منیبہ اسکول کا معاملہ عرصے کے لیے دب گیا لیکن پھر کچھ عرصے بعد اچانک لینڈمافیا نے اسکول کا بورڈ گرادیا اور اسکول کوتوڑنے لگے اس واقعے کی اطلاع جب اس وقت کے سیکریٹری تعلیم فضل پیچوہو کو ملی توانہوں نے سخت نوٹس لیا پولیس بھیج کر توڑپھوڑ رکوادی اور اسکول کو گرنے سے بچالیا بعد ازاں پیپلزپارٹٰ کے ضلعی صدر سہیل عابدی اور تعلیم بچاؤ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں انیس الرحمان نے لینڈ مافیا کو بھگادیا۔
 
اسکول لینڈمافیا کے حوالے کرنے کے الزام میں ڈی او ،اے ڈی او۔ سپروائز اور دیگر ذمہ داروں کو معطل کردیا اور یہ معاملہ عدالت تک جاپہنچا جہاں سیکریٹری تعلیم پیجوہو نے اسکول کو جعلی مالک کے حوالے کرنے کا بھرپور دفاع کیا لیکن فضل پیچوہو کے ہٹتے ہی لینڈمافیا دوبارہ اسکول پر قبضے کے لیے سرگرم ہوگئی ہے کے ڈی اے میں موٹیشن کے لیے درخواست بھی جمع کرادی گئی جس میں اینٹی کرپشن کی وہ رپورٹ شامل ہے جو لینڈمافیا کے حق میں تیار گئی تھی جس مین کہا گیا تھا کہ اسکول دینے میں کوئی کرپشن نہیں کی گئی۔ جنگ نے کے ڈی اے کے ڈی جی ڈاکٹر سیف الرحمان نے کہا کہ ان کے علم میں منیبہ اسکول کے دینے کے معاملے کا علم نہیں وہ اس کا جائزہ لیں گے۔ ادہر ڈی او سیکنڈری ارشد بیگ نے کہا یہ اسکول محکمہ تعلیم کی ملکیت ہے اس کا کسی اور کے نام موٹیشن ہونا نامکن ہے لکین ہمیں بھی یہ اطلاع ملی ہے کہ اینٹی کرپشن کا میمن نامی افسر اور کے ڈی اے کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی منیبہ اسکول کے معاملے میں بہت دلچسپی ہے انھوں نے کہا کہ وہ اس حوالے چیرمین اینٹی کرپشن، سکریٹری تعلیم اور ڈی جے کے ڈی کو خط لکھ رہے ہیں

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment