پیر, 09 دسمبر 2019


مِرگی کے مریضوں کے لیے دماغی پیس میکر ایجاد ۔

  • مرگی کے دوروں اور پارکنسن کے مرض میں ہاتھ پاو¿ں لرزنے کی وجہ دماغ کے اندر غیرمعمولی برقی سرگرمی ہوتی ہے جسے کسی بیرونی برقی سرگرمی سے کم کیا جاسکتا ہے اسی بنا پر ایک انقلابی آلہ بنایا گیا ہے جسے دماغ کا پیس میکر کہا جاسکتا ہے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، برکلے کے انجینیئروں نے وینڈ نامی دماغی پیس میکر بنایا ہے جو مسلسل دماغی برقی سرگرمیوں کو نوٹ کرتا رہتا ہے اور کسی بھی گڑبڑ کی صورت میں مرگی اور پارکنسن جیسے امراض میں بجلی کے ہلکے جھماکے خارج کرکے اس کیفیت کو ختم کرسکتا ہے یوں ایک ہی وقت یہ دماغ کا جائزہ لیتا ہے اور دماغی کیفیت کو دیکھ کر اس کی بگڑتی ہوئی حالت کو بہتر کرتا ہے وینڈ کا پورا نام وائرلیس آرٹفکیٹ فری نیوروماڈیولیشن ڈیوائس ہے ایک جانب خودکار بھی ہے اور بے تار بھی ہے ایک مرتبہ مرگی اور کپکپاہٹ کے آثار جاننے کے بعد یہ اپنے معیارات خود سیٹ کرتا ہے اور غیراضطراری حرکات کو روکنے کے سگنل دیتا ہے یہ سارا کام حقیقی وقت میں ہوتا رہتا ہے وینڈ دماغ کے ۱۲۸ مقامات کی برقی سرگرمی نوٹ کرتا ہے اور اسے کامیابی سے بندروں پر آزمایا گیا ہے آلے کا کام کرنے کا طریقہ عین ای ای جی کی طرح ہے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment