ھفتہ, 07 دسمبر 2019


اینٹی بیکٹیریل سوپ صحت کےلئےخطرناک

مانیٹرنگ ڈیسک: صدیوں سے صابن جسم اور ہاتھوں کو صاف کرنے اورجراثیم سے پاک رکھنےکے لیے استعمال ہورہا ہے۔عام صابن جس میں کیمیل نہ ہو۔لیکن جدید دور میں جراثیم کو مارنے والی ادویات عام ہونے سےصابن بنانےوالی کمپینوں نے یہ کمیکل صابن میں استعمال کرنا شروع کیا ہے۔جو کہ اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ ہم جراثیم کو مارتے مارتے دوسری بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ جس میں سب سے بڑی بیماری کینسر کی ہے۔
 
’اینٹی بیکٹیریل‘ صابن بنانے والی کمپنیوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ استعمال ہونے والی سوپ ہر طرح کے جراثیموں یا ان سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام میںمددگار ہوتی ہیں۔
 
اگرچہ کمپنیوں کا دعویٰ کسی حد تک صیحح ہے، تاہم ایک تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض ’اینٹی بیکٹیریل‘ صابن عام سوپ کے مقابلے زیادہ خطرناک اور لوگوں کے لیےنقصان دے ہوتی ہیں۔
 
ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک تحقیق کے مطابق صحت پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام صابن میں ’اینٹی بیکٹیریل‘ اجزا موجود ہوتے ہیں، اس لیے ہر صابن میں جراثیموں کو ختم کرنے کی اہلیت موجود ہوتی ہے۔
 
یہ انتباہ امریکی فوڈاینڈڈرگ ایڈمنسٹریشن کی طرف صابن میں جراثیم مارنے والےکیمیکل ٹرک لوسن کے استعمال پر پابندی کے بعد سامنے آیا ہے۔ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ کیمیکل بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ بعض کمپنیاں ’اینٹی بیکٹیریل‘ صابن میں ’ٹرائکلو کاربان‘ اور اینٹی مائیکرو بیال‘ نامی کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے جو عام صابن میں استعمال ہونے والے کیمیکل کے مقابلے زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہو سکتے ہے۔
 
رپورٹ میں خطرناک ’اینٹی بیکٹیریل‘ صابنوں کی وضاحت نہیں کی گئی، جبکہ بتایا گیا کہ ایسے صابن عام انسان کی صحت اورجلد کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
 
رپورٹ کے مطابق ’اینٹی بیکٹیریل‘ صابن کے استعمال سےکئ خطرناک مسائل سمیت مختلف قسم کے ’ہارمون‘ اثر انداز ہوسکتے ہیں اورصابنوں سے ’نظام ہاضمہ‘ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
 
رپورٹ میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ تقریبا دنیا کے ہر صابن میں ایسے اجزا اور کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو جراثیموں کو مارنے کا کام کرتے ہیں، اسی طرح ہر صابن جسم کی صفائی کے لیے بھی ہوتا ہے، تاہم ’اینٹی بیکٹیریل‘ کے کچھ نقصانات ہوسکتے ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment