جمعہ, 31 مئی 2024

پنجاب اسمبلی کے باہر ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے فياض الحسن چوہان نے کہا کہ ملک کيلئے تين جنگيں لڑنے والا غدار کيسے؟ فوج کی قربانياں کسی سے ڈھکی چھپی نہيں ۔

فیاضالحسن نے مزید کہا کہ ادارے کے ايک فرد کو چننا سوالات کو جنم ديتا ہے،

سانحہ ماڈل ٹاؤن اورراؤ انوار پر تو کوئی پھانسی نہيں آرہی، معاشی دہشت گرد ضمانت لے کر باہر آرہے ہیں۔

سنگین غداری کیس میں سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت کا فیصلہ دیے جانے پروفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ایسے فیصلوں کا کیا فائدہ جن سے ادارے تقسیم ہوں

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے فیصلوں کا کیا فائدہ جن سے فاصلےاورتقسیم بڑھے اور قوم و ادارے تقسیم ہوں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وقت کے تقاضے ہوتے ہیں ملک کو جوڑنے کی ضرورت ہے، میں مسلسل کہہ رہاہوں گفتگو کی نئے معاہدےکی ضرورت ہے ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانا کسی کے مفاد میں نہیں، ملک پر رحم کریں۔

 

نیویارک : ایران میں سال 2017 میں منشیات سے متعلق جرائم کے سلسلے میں سزائے موت کی تعداد 231 تھی جو 2018 میں کم از کم 24 تک آ گئی۔
 
ایران میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ذمے دار جاوید رحمن کا کہنا ہے کہ ایران میں گذشتہ برس آزادی اظہار کے حق پر قدغن اور شخصی آزادی اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے حوالے سے خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھا گیا، اس دوران بالغ افراد اور بچوں کے خلاف سزائے موت پر عمل کی 253 کارروائیاں رپورٹ کی گئیں۔
 
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقسیم کی گئی رپورٹ میں جاوید رحمن نے بتایا کہ اگرچہ سزائے موت کی کارروائیاں 2007 کے بعد کم ترین تعداد میں تھیں تاہم ایران میں سزائے موت کا تناسب اب بھی دنیا بھر میں بلند ترین سطح کے حامل ممالک میں ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ سزائے موت کے تناسب میں واضح کمی 2017 میں انسداد منشیات کے قانون میں ہونے والی ترمیم کا نتیجہ ہے، سال 2017 میں منشیات سے متعلق جرائم کے سلسلے میں سزائے موت کی تعداد 231 تھی جو 2018 میں کم از کم 24 تک آ گئی۔
 
جاوید رحمن نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایران میں 80 سے زیادہ جرائم ہیں جن کی سزا موت ہے جب کہ ان میں کئی جرائم ایسے ہیں جو شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی میثاق (آئی سی سی پی آر) کی رو سے خطرناک جرائم شمار نہیں ہوتے ہیں۔
 
اقوام متحدہ کے ذمے دار کے مطابق اپریل 2018 میں ایران میں جن سات قصوروار کم عمر بچوں کو سزائے موت دی گئی ان میں دو کی عمر 17 برس تھی۔ ان پر عصمت دری اور چوری کے الزام عائد کیے گئے تھے اور اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں کم عمر افراد کو تشدد کے ذریعے اعتراف جرم پر مجبور کیا گیا۔
 
جاوید رحمن نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی ہائی کمشنر پیچلیٹ مچل کے اس بیان کو دہرایا کہ جرم کے مرتکب بچوں کو موت کی سزا دینا مکمل طور پر ممنوع ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
 
مزید برآں جاوید رحمن نے دہری شہریت کے حامل ایرانیوں اور غیر ملکی افراد کی جبری گرفتاری اور حراست، ان کے ساتھ برے برتاو اور انہیں طبی دیکھ بھال سے محروم کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اندازہ لگاتے ہوئے بتایا کہ اس طرح کے 30 کیس موجود ہیں۔

کراچی: کلفٹن میں ماں کے ہاتھوں بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنے کے مقدمے کی تفتیش کے دوران مقتولہ کے نانا نے اپنی ملزمہ بیٹی کو ’نفسیاتی مریضہ‘ قرار دے دیا۔

ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ طارق دھاریجو کے مطابق ملزمہ شکیلہ راشد کے والد دلاور خان کئی گھنٹے تک ساحل تھانے کے شعبہ تفتیش میں رہے۔
والد کے بیان کے مطابق شکیلہ اور راشد شاہ کی سال 2012 میں شادی ہوئی، کچھ عرصے بعد ہی گھر میں جھگڑے شروع ہو گئے تھے۔
ملزمہ کے والد نے بتایا کہ میاں بیوی کے درمیان مسلسل تناؤ کی وجہ سے شوہر نے کرائے پر الگ فلیٹ لے کر دیا تھا، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی وجہ سے شکیلہ سال 2016 سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھی۔
دلاور خان نے اپنی ملزمہ بیٹی کے ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار رہنے کا ڈاکٹری سرٹیفکیٹ بھی پولیس کے سامنے پیش کیا۔
دلاور خان کے بیان کے مطابق ان کی بیٹی شکیلہ 5 ماہ سے ان کے پاس رہتی تھی جبکہ نواسی انعم اپنے والد کے پاس رہتی تھی اور ایک ماہ سے دونوں کے درمیان صورتحال زیادہ گھمبیر تھی جس کے باعث والد نے بچی کو ماں سے نہیں ملنے دیا تھا۔
شکیلہ کے والد کا کہنا ہے کہ دماغی توازن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے بیٹی کے پاس پیسے نہیں رہنے دیتے تھے، وقوعہ کے روز پتہ نہیں وہ کس طرح اپنے شوہر کے گھر پہنچی، بچی کو کیسے لیا، کیسے ساحل سمندر پہنچی اور قصہ تمام کر دیا۔
ایس ایچ او ساحل پولیس اسٹیشن سیدہ غزالہ کے مطابق ڈھائی سالہ مقتولہ انعم کا والد راشد شاہ بیٹی کی میت لینے نہیں آیا، لاش چچا صابر شاہ کے حوالے کی گئی جسے مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا
پولیس کے شعبہ تفتیش نے بچی کے والد راشد شاہ کو بھی بیان کیلئے طلب کر رکھا ہے۔
ایس ایس پی طارق دھاریجو کے مطابق تفتیش کے بعد کسی بھی کردار کو قتل السبب ہونے کی بناء پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
ایس آئی او عامر الطاف کے مطابق ڈھائی سالہ بچی کے سمندر میں ڈبو کر قتل کرنے کے کیس سے متعلق دیگر کرداروں کے بھی بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز کلفٹن میں شقی القلب ماں نے ڈھائی سال کی بیٹی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کیا تھا جس کی لاش دو دریا کے قریب سے ملی تھی۔

 

 

ایمز ٹی وی(جکارتہ) انڈونیشیا نے سزائے موت کے قانون پرعمل درآمد روکنے پرغور شروع کردیا۔ انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پھانسی کی سزاؤں پرعمل درآمد روکنے کے لئے تیاری کررہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے صدر ویدودو نے ملک میں پھانسی کے قانون میں ترمیم کا عندیہ دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سزائے موت پر پابندی پرغور کررہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ کیوں نہیں مگر میں پہلے اپنی کابینہ سے پوچھوں گا۔ صدر نے کہا کہ اگر عوام سزائے موت روکنے پر راضی ہوں تو وہ دی گئی موت کی سزاؤں پرعمل درآمد روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔واضح رہے کہ 2015ء میں لیے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں کہا گیا تھا کہ انڈونیشیا کے 85 فیصد شہری منشیات کی روک تھام کے لیے منشیات کے سودا گروں کو سزائے موت دینے کے حامی ہیں۔صدر جوکو ویدودو کے اقتدار سنھبالنے کے بعد 15 غیر ملکیوں سمیت 18 افراد کو منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی

 

 


ایمز ٹی وی (مانیٹرنگ ڈیسک) موت ایک ایسی حقیقت ہے جو ٹل نہیں سکتی لیکن یہ ممکن ہے آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ آپ اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ اہم ہے کہ آپ اپنی موت سے متعلق کچھ منصوبہ بندی ضرور کر لیں۔

اگر آپ کے پاس کچھ بچت ہے یا آپ اچھی قسم کی جیولری کے مالک ہیں تو آپ زندگی میں فیصلہ کریں کہ آپ کی موت کی صورت آپ کے اثاثے کس کو ملیں۔ جب آپ جوان ہوتے ہیں تو آپ کو وصیت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
'ڈائنگ میٹرز' نامی چیرٹی نے نیوز بیٹ کو بتایا کہ اگر آپ کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے پھر بھی آپ کو اپنے ڈیجٹل ورثے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

وصیت تیار کریں:
وصیت ایک ایسی قانونی دستاویز ہوتی ہے جس میں آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی دولت، جائیداد اور دیگر اثاثے کس کو ملنے چاہیں۔ آپ اپنی وصیت خود بھی لکھ سکتے ہیں لیکن بہتر ہوگا کہ آپ وصیت کے لیے کسی سے مشاورت کر لیں۔ وصیت کو قانونی دستاویز بنانے کے لیے گواہوں کی موجودگی میں اس پر دستخط کرنے لازم ہوتا ہے۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ وکیل سے وصیت لکھوائیں۔ اس کے لیے آپ کو سو سے دوسو پونڈ فیس ادا کرنی پڑے گی لیکن اپنے وارثوں کو بہت سی پریشانی سے بچا سکتے ہیں۔
آپ وصیت لکھنے والے سروس کا استعمال کر کے کچھ رقم بچا سکتے ہیں۔ اگر آپ وصیت لکھے بغیر اس دنیا سے چل بسے تو پھر قانون فیصلہ کرے گا کہ آپ کے اثاثے کس کی ملکیت ہیں۔

اپنے کفن دفن کا بندوبست کریں:
یا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے جنازے میں لوگ خوبصورت لباس پہن کر شریک ہوں اور اپنے دفن کو 'ماحول دوست' بنانا چاہتے ہیں۔

چیرٹی کا کہنا ہے آپ سب سے عقلمندانہ اقدام یہ کر سکتے کہ آپ اپنی وفات سے پہلے اپنے کفن دفن کا انتظام کریں تاکہ آپ کے چاہنے والوں کو کفن دفن کا انتظام کرنے میں پریشانی کا سامنانہ ہو۔

اپنے اعضا عطیہ کریں:
آپ کی موت دوسرں کے لیے زندگی کا سبب بن سکتی ہے۔
برطانیہ کی ایک اکائی ویلز میں اگر آپ اعضا کے عطیے کی وصیت کے بغیر وفات پاگئے تو یہ فرض کیا جائے گا کہ آپ کی موت پر آپ کےاعضا حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن برطانیہ کے دوسرے حصوں، انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ آپ کو اعضا کا عطیہ دینے کے لیے اپنی زندگی میں رجسٹر ہونا لازم ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا اکاونٹس کا بھی سوچیں:
کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کی موت کی صورت میں آپ کے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر اکاونٹ کا کیا بنے گا۔

مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورک کا اپنے صارف کی موت سے متعلق مختلف پالیسی ہے۔
فیس بک کی پالیسی ہے کہ اپنےصارف کی موت کے بعد اس کا اکاونٹ ڈیجٹل فٹ پرنٹ سے ڈیجیٹل ورثہ میں بدل جاتا ہے۔

آپ اپنے فیس بک اکاونٹ میں اپنے ایک 'وارث' کا تعین کر سکتے ہیں جو آپ کی موت کی صورت میں آپ کی تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
انسٹاگرام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارف کے مرنے کی صورت میں اس کا انسٹاگرام اکاونٹ ختم کر دیتے ہیں۔ انسٹاگرام کسی دوسرے شخص کو اپنے صارف کے اکاونٹ کا پاس ورڈ مہیا نہیں کرتا۔

ٹوئٹر ایسے صارف کا اکاونٹ خود بخود ختم کر دیتا تھا جو چھ مہینے تک اس اکاونٹ کو استعمال نہ کرے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ٹوئٹر اکاونٹ چلتا رہے تو آپ کو چاہیے اپنے اکاونٹ کا پاس ورڈ اپنے کسی عزیز کو بتا دیں۔

 

ایمزٹی وی(بزنس)تاجروں نے ملک بھر کے 50 سے زائد چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں عالمی شہرت یافتہ نامور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی مرحوم کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ایدھی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان فنڈز سے حاصل ہونے والی رقم ہر ماہ ایدھی فاؤنڈیشن میں جمع کرائی جائے گی۔ منگل کی شام اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے پاکستان کی معروف سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالرؤف، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ، سینئر نائب صدر شیخ پرویز احمد، نائب صدر شیخ عبدالوحید، فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین خالد جاوید اور آئی سی سی آئی کے سابق صدور سمیت تاجر برادری کی بڑی تعداد اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی۔ شرکا نے عبدالستار ایدھی کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا، سوگواران کے ساتھ دلی اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کے لیے دعا مغفرت کی اور کہا کہ ایدھی صاحب کی وفات سے پاکستانی قوم عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالرؤف نے عبدالستار ایدھی مرحوم کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ عبدالستار ایدھی مرحوم کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کی ہوئی تھی، عبدالستار ایدھی انسانیت کے لیے راہ مشعل تھے اور ان کے نیک مشن کو جاری رکھنے کے لیے ہم سب کو اپنی اپنی سطح پر مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ عبدالستار ایدھی قوم کا عظیم سرمایہ تھے کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی قوم کے محروم، لاوارث اور غریب افراد کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی، ایدھی صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ان کے نیک مشن کو آگے بڑھانا ہے۔

ایمز ٹی وی(کھیل)لیجنڈ باکسر محمد علی کے انتقال پر جہاں ان کے مداح سوگوار ہیں وہیں دنیا بھر میں عظیم باکسر کو بھی زبردست خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نیویارک میں میڈیسن اسکوائر گارڈن کی ایک اسٹریٹ کو عظیم باکسر محمد علی کے نام سے منصوب کردیا گیا ہے، نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے میڈیسن اسکوائر گارڈن سے متصل سڑک کو عظیم لیجنڈ باکسر سے منصوب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج محمد علی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس سڑک کو ان کے نام سے منصوب کرتے ہیں کیونکہ وہ اس اعزاز کے حقدار ہیں۔ باکسر محمد علی نے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں 8 مرتبہ فائٹ کی جب کہ یہاں ہونے والی تاریخی ہیوی فائٹ 1971 میں اس وقت کے عظیم باکسر جو فرازیر سے ہوئی تھی جس میں محمد علی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم نیویارک کی اسٹریٹ کو عارضی طور پر محمد علی سے منصوب کیا گیا ہے جس کو کونسل سے منظوری اور میئر کے سائن کے بعد مستقل طور پر لیجنڈ کے نام سے منصوب کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ شہرہ آفاق باکسر محمد علی کلے مختصر علالت کے بعد 4 جون کو انتقال کرگئے تھے جب کہ ان کے جسد خاکی کو امریکی ریاست کینٹکی میں ان کے آبائی علاقے لوئی ول پہنچا دیا گیا ہے جہاں جمعہ کو ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

ایمز ٹی وی (انٹرنیشنل)لاطینی امریکا کے ملک ایکواڈور کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں 7.8 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں اب تک 272 افراد ہلاک اور 1500 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایکواڈور میں آنے والے زلزلے کے باعث سب سے زیادہ تباہی موئسنے اور گوئیایا کوئل کے علاقوں میں ہوئی۔ زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں گرنے اور مختلف حادثات میں 272 افراد ہلاک جب کہ سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ زلزلے کے باعث سیکڑوں عمارتوں میں دراٹیں پڑ گئی ہیں جب کہ مواصلاتی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ مونٹا کے ایئرپورٹ پر کنٹرول ٹاور گرنے کے باعث فضائی آپریشن فوری طور پر معطل کردیا گیا۔ زلزلے کے جھٹکے سیکڑوں میل دور دارالحکومت کیوٹو سمیت دیگر شہروں میں بھی محسوس کئے گئے۔ زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا خدشہ موجود ہونے کے باعث لوگوں نے محفوظ مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ایکواڈور میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کا مرکز جنوب مشرقی علاقے موئسنے سے 27 کلو میٹر دور کا علاقہ تھا۔ ایکواڈور کے جیو فزکس انسٹیٹیوٹ کے مطابق زمین میں زلزلے کی گہرائی 20 کلو میٹر تھی جس کے باعث زیادہ نقصان ہوا۔ زلزلے کے بعد پیسیفک سونامی سینٹر کی جانب سے خطرناک سمندری لہروں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے تاہم ایکواڈور حکام کی جانب سے سونامی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ دوسری جانب ایکواڈور کے نائب صدر جارج گلاسیڈ نے زلزلے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے ملک کے 6 صوبوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ایمز ٹی وی(نیوز ڈیسک)سینٹرل جیل فیصل آباد میں قتل کے مجرم محمد افضل کو علی الصبح تختہ دار پر لٹکادیا گیا، اس موقع پر جیل اور اطراف میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ مجرم محمد افضل نے 1995 میں زمین کے تنازع پر ایک شخص کو قتل کیا تھا

Page 1 of 2