ھفتہ, 20 اپریل 2024

اسلام آباد: ایل این جی اسکینڈل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب کے گواہ بن گئے۔

تفصیلات کے مطابق شیخ رشید احتساب عدالت میں ایل این جی کیس میں مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کے خلاف گواہی دیں گے، اس کیس میں نیب مجموعی طور پر 59 گواہان عدالت میں پیش کرے گا۔

وفاقی وزیر شیخ رشید بہ طور شکایت کنندہ نیب کے پہلے گواہ ہوں گے، وزارت توانائی کے 4 افسران حسن بھٹی، نواز احمد ورک، عبدالرشید جوکھیو اور عمر سعید بھی گواہان میں شامل ہیں۔ قائم مقام جی ایم سوئی سدرن گیس فصیح الدین بھی گواہان میں شامل ہیں، جب کہ جمیل اجمل ڈائریکٹر پورٹ قاسم اتھارٹی بھی استغاثہ کے گواہ ہوں گے۔

 نیب نے شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس دوبارہ دائر کردیا

یاد رہے کہ 12 دسمبر کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ریفرنس دوبارہ دائر کر دیا تھا، جسے احتساب عدالت نے باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا تھا، ریفرنس میں شاہد خاقان سمیت 10 ملزمان نامزد ہیں۔

اس ریفرنس میں رجسٹرار احتساب عدالت کے اعتراضات دور کیے گئے ہیں، ریفرنس 8 ہزار صفحات پر مشتمل ہے، جو اختیارات کے غلط استعمال پر دائر کیا گیا، ملزمان میں مفتاح اسماعیل کا نام بھی شامل ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ایک کمپنی کو 21 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا گیا، مارچ 2015 سے ستمبر 2019 تک یہ فائدہ پہنچایا گیا، 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان ہوگا اور عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال میں 68 ارب سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔


ایمزٹی وی(لاہور)سپریم کورٹ نےغیرمعیاری اور مضر صحت دودھ کیس کی سماعت کےدوران ملکی اور غیر ملکی ڈبہ بند دودھ کے لیبارٹری تجزیے کا حکم دیدیا۔ اپنے ریمارکس میں عدالت نے کہا کہ میرے اور قوم کے بچوں کی صحت کا معاملہ ہے، ماہرین اللہ کو حاضر ناظر جان کے بلا خوف ایمانداری سے رپورٹ تیار کریں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں غیرمعیاری اورمضر صحت دودھ کی خرید و فروخت کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملکی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈبہ بند دودھ کے لیبارٹری تجزیے کا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ،ویٹرنری یونیورسٹی لاہور اور پی سی ایس آئی آر کے ماہرین کو حکم دیا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہر گھر میں بچہ دودھ پیتا ہے، یہ میرے اور قوم کے بچوں کی صحت کا معاملہ ہے، ماہرین ایمانداری سے بلاخوف و رعایت رپورٹ تیار کریں۔ اس کے علاوہ اوپن مارکیٹ سے بھی دودھ خریدکر ماہرین کو فراہم کیا جائے۔عدالت نےکہا کہ یہ ذمہ داری حکومت کی ہے مگر عدلیہ کو کام کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالت نے حیدررسول مرزا ایڈووکیٹ کو اس سلسلے میں کوآرڈینیٹر مقرر کردیا ۔

عدالت نے مضر صحت دودھ کیس پر مزید کاروائی 4 ہفتوں تک ملتوی کردی۔

ایمزٹی وی(انٹرٹینمنٹ) اداکار ، ماڈل اور ہدایتکار شان شاہد نے اپنے والد ریاض شاہد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملکی فلموں کی کہانیاں لکھنے کا فیصلہ کرلیا ۔ جس کی ابتدا انہوں نے فلم ارتھ 2 کے سکرپٹ سے کردی ہے ،اس فلم سے بطور ہدایتکار شان کی فلم انڈسٹری میں واپسی 7 برس بعد ہوگی۔

2009 میں آخری بار انہوں نے فلم ’’ظل شاہ ‘‘کی ڈائریکشن دی تھی دوسری ذاتی فلم ’’ضرار ‘‘ کا سکرپٹ بھی ان کے زور قلم کا نتیجہ ہے مختلف فلمسازوں نے شان سے بطور رائٹر اپنی فلموں کے سکرپٹ کیلئے رابطے کئے ہیں ، فی الحال وہ اپنی زیر تکمیل فلموں کو مکمل کرانے اور ذاتی فلموں کی کہانیاں لکھنے کے خواہشمند ہیں ان فلموں کی عکسبندی کیلئے وہ رواں ماہ کے تیسرے ہفتے لندن جارہے ہیں جس میں ان کے ہمراہ فلم ’’ ارتھ 2 ‘‘ کے فنکار محب مرزا، عظمیٰ حسن،حمائمہ ملک اور فلم ’’ ضرار ‘‘کے فنکار کرن خان، عدنان بٹ و دیگر ٹیم شامل ہے ۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ سنٹرل لندن میں وہ فلم ارتھ 2 کا آخری سپیل شوٹ کرینگے جو 10 روز تک جاری رہے گا جس کے بعد مذکورہ فلم کا کیمرہ کلوز ہوجائیگا ایک ہفتے تک وہ پاکستانی کمیونٹی ، سینما ، فلم ٹریڈ کی جانب سے ہونے والے ایونٹس میں شرکت کریں گے اورملاقاتیں کرکے ملکی فلم انڈسٹری کے فروغ کیلئے مستقبل کی منصوبہ بندی مشترکہ طور پرترتیب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں،اس کے بعد آخر میں وہ فلم ’’ضرار ‘‘ کا خصوصی سپیل شوٹ کریں گے ۔جس میں کرن خان، شان اور عدنان بٹ کا کام فلمایا جائے گا۔فلم ارتھ 2 کی ریلیز کا شیڈول بھی فلم کے پروڈیوسرز شان ، علی مرتضیٰ اور حماد چودھری لندن میں ہی مشترکہ طور پر ترتیب دیں گے ۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ مذکورہ فلم کی نمائش کے موقع پر بھارتی ہدایتکار مہیش بھٹ نے بھی پاکستان آنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ان کے علاوہ دیگر بھارتی فنکاروں کی بھی آمد متوقع ہے ۔واضح رہے فلم ارتھ ،بھارت میں ہدایتکار مہیش بھٹ نے 90 کی دہائی میں بنائی تھی جس کا پاکستانی ورژن ہدایتکار شان بنارہے ہیں جس کے حقوق پہلی بار کسی پاکستانی فلمساز نے بھارتی فلمساز سے خریدے ہیں۔

ایمز ٹی وی (انٹرٹینمنٹ) دیہی علاقوں میں سود خوروں کے معاشی جال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک جانے والے پاکستانی نوجوان پر بننے والی خصوصی دستاویزی فلم سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مقبول ہوگئی۔ عرب نشریاتی ادارے (الجزیرہ) کی جانب سے باہر ممالک مزدوری کے لئے جانے والے ایک عام پاکستانی کی زندگی پر بننے والی خصوصی دستاویزی فلم عوام میں مقبول ہوگئی۔

اس فلم میں پنجاب کے ایک گاؤں ’حکیم والا‘ میں رہائش پذیر 29 سالہ محمد شریف کے حالات کو تفصیلی بیان کیا گیا ہے، دیہاتی شخص نے محنت کر کے کپاس کاشت کی۔ فصل تیار ہونے سے قبل پورے گاؤں کے کھیتوں میں مہلک بیماری پھیل گئی اور فصل کو شدید نقصان پہنچا۔

فصل کی بیماری دور کرنے کے لئے گاؤں کے لوگوں نے سود خوروں سے قرضہ لیا مگر مکمل تباہی اور نقصان کے باعث کوئی بھی قرضے کی ادائیگی نہ کرسکا ۔ شریف اپنے گھر کا اکلوتا جوان ہے اور ساتھ ہی ساتھ گاوٗں کا واحد ڈرائیور بھی اور اسی فن کے سبب گاؤں کی پنچایت، بزرگوں اوردوستوں کےمشورے پرعمل کرتے ہوئے اس نےدبئی جانے کا فیصلہ کیا۔

فلم میں مزید بتا یا گیا ہے کہ گاؤں کے لوگوں نے اپنی تمام تر قیمتی اشیا ء اور زمینیں فروخت کر کے شریف کودبئی بھیجنے کے انتظامات کئے ہیں تاکہ قرضے سے نجات حاصل ہوسکے۔ دبئی پہنچنے پرپہلے سے مقیم دوستوں اور رشتے اداروں نے شریف کے اس اقدام کو غلط قرار دیا اور وہاں کے حالا ت سختیوں کے حوالے سے آگاہی دی ۔ گاؤں کے حالات بدلنے کی سوچ لئے جانے والے اس جواں نے تمام تر مصائب اورسختیوں سے لڑنے ہوئے دبئی میں قیام کا فیصلہ کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ شریف اپنے اور گاؤں والوں کے خوابوں کو تعبیر دینے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی پیسے کمانے کی غرض سے مزدور ویزوں پر خلیجی ممالک کا سفر کرتے ہیں۔