منگل, 28 جنوری 2020


بلوچستان میں شدیدبرف باری کےباعث ناخوشگوارحالات

کوئٹہ : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث 8 افراد جاں بحق اور درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث گھروں کی چھتیں گرنے سے اب تک بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ درجن بھر زخمی ہو گئے ہیں۔
مختلف پہاڑی علاقوں سے گزرنے والی قومی شاہراہوں کی بندش سے مسافروں کے پھنس جانے کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں۔ صوبائی حکومت اور پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھسلن کے باعث قومی شاہراہوں پر سفر خطرناک ہے۔
شدید برفباری کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بجلی کا طویل ترین بریک ڈاون ہے بلکہ مختلف اضلاع میں تو گزشتہ روز سے ہی بجلی کی سپلائی بند کر دی گئی ہے۔ رہی سہی کسر گیس پریشر کی کمی اور انٹرنیٹ نظام کی خرابی نے پوری کر دی ہیں۔
اداروں کی اعداد و شمار کے مطابق سرحدی علاقے چمن کے کلی لقمان میں شادی گھر میں ایک کمرے کی چھت گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد جان بحق جبکہ 6 زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر سول اسپتال چمن منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے خاتون اور ایک شدید زخمی بچی کو کوئٹہ ریفر کر دیا گیا ہے مگر کوئٹہ منتقل کرنے کے لئے بھی لواحقین کو مشکل کا سامنا ہے کیونکہ خوجک ٹاپ گزشتہ روز سے جاری برفباری سے بند ہے جسے کھولنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کوشاں ہیں۔
اس کے علاوہ ضلع پشین کے علاقے چوکل میں کمرے کی چھت گرنے سے 2 بچیاں جان کی بازی ہار گئی ہیں جبکہ 2 افراد زخمی ہو گئے ہیں جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں ایک خاتون بھی ہیں۔
برشور میں چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ 2 بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
واشک سے رکن اسمبلی زابد ریکی کے مطابق ماشکیل کی ندی بگ میں سیلابی پانی میں 20 افراد پھنس چکے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان سے رابطے کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہو پائی۔ انہوں نے وزیر داخلہ اور پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے حکام کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لئے ہیلی کاپٹر بھجوانے کی درخواست کی ہے۔
شدید برفباری اور بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف علاقوں کے ایک دوسرے سے رابطے بھی منقطع ہو چکے ہیں۔ خوجک ٹاپ، مچھ کولپور، کوئٹہ کراچی شاہراہ، کچلاک، کان مہترزئی شاہراہ، کوئٹہ ڑوب شاہراہ و دیگر کی بھی بندش کی اطلاعات مل رہی ہیں بلکہ وہاں سینکڑوں گاڑیوں میں سوار افراد کی پھنس جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
بعض مقامات پر پھنسے افراد نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں مدد کی اپیل کی ہے۔ متعدد نے میڈیا نمائندوں اور منتخب نمائندوں کے ذریعے امدادی ٹیموں تک اطلاعات پہنچانے کی کوششیں کی۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے حکم پر سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ نے تمام پبلک ٹرانسپورٹ و گڈز ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوئٹہ سے کراچی، کوئٹہ چمن، کوئٹہ سبی نیشنل ہائی ویز پر برف جمنے کی وجہ سے سفر کرنے سے گریز کریں۔
مستونگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کراچی این 25 اور کوئٹہ سبی این 65 شاہراہوں پر کل سے شدید برفباری کے باعث برف جم گئی ہے۔ سڑکیں صاف کرنے کے لئے ایف ڈبلیو او، این ایچ اے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ متحرک ہے۔
انتظامیہ نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے والوں کو کانک نوحصار روٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ وہ لکپاس کے دشوار گزار علاقے میں مشکلات سے بچ سکیں۔
کچلاک سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کوئٹہ چمن شاہراہ کو سملی ملازئی کے مقام پر بند کر کے سفر کرنے والوں کو بائی پاس کا راستہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے شہر میں برفباری کے پیش نظر کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے شہریوں کو بیرونی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ کوئٹہ میں شدید برفباری کے باعث جہاں مختلف شاہراہیں دریا کا منظر پیش کر رہی تھی وہی بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ، گیس پریشر کی کمی، ٹیلی فونز کی خرابی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment