منگل, 19 جنوری 2021


دورانِ پرواز کوئی مسئلہ ہوا جو حادثے کا باعث بنا

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد) ترجمان پی آئی اے نے حویلیاں میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے انجن میں پہلے سے خرابی سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی قیاس آرائیوں سے عوام غلط نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔

ترجمان پی آئی اے نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے انجن میں پہلے سے کسی خرابی کی موجودگی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرحلے پر یہ تاثر دینا کہ ایک انجن کا پنکھا اُلٹا چل رہا تھا جو حادثے کا باعث بنا قبل از وقت ہے، اس قسم کی قیاس آرائیوں سے عوام غلط نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارے کے دونوں انجن ٹیک آف کے وقت بالکل ٹھیک کام کررہے تھے لہذا دورانِ پرواز کوئی مسئلہ ہوا جو حادثے کا باعث بنا جب کہ حادثے کی مکمل تحقیقات ایک خود مختار ادارہ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کر رہا ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ جائے حادثہ سے ملنے والی تمام اشیاء بشمول کاک پٹ آلات تحقیقات میں اہم معلومات فراہم کرسکتے ہیں لیکن صرف چند اشیاء کی بنیاد پر حتمی رائے قائم کرنا گمراہ کن ہو سکتا ہے، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کو وزیراعظم کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ تحقیقات کا عمل شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہو اور سچ عوام کے سامنے جلد از جلد لایا جائے لہذا میڈیا سے درخواست ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اس کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اے ٹی آر طیاروں میں دنیا کی معروف انجن ساز کمپنی Pratt & Whitney کے انجن استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ کمپنی 1925 سے اب تک دنیا کی مشہور طیارہ ساز کمپنیوں کو 20 ہزار سے زائد انجن فروخت کر چکی ہے جن میں بوئنگ اور ایئر بس کے علاوہ ملٹری طیارے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پرواز ایبٹ آباد میں حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی تھی جس سے معروف نعت خواں جنید جمشید، ان کی اہلیہ، ڈپٹی کمشنر چترال، ان کی اہلیہ، بیٹی اور3 غیرملکیوں سمیت 47 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment