ھفتہ, 27 فروری 2021


وزیراعظم کی صولت مرزا کی پھانسی ایک ماہ تک مؤخر کرنے کی سفارش

ایمز ٹی وی(اسلام آباد )وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سزائے موت کے مجرم صولت مرزا کی پھانسی ایک ماہ تک مؤخر کرنے کی سمری صدر کو ارسال کردی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے صدر مملکت ممنون حسین کو سزائے موت کے مجرم صولت مرزا کی پھانسی کو مؤخر کرنے کی نئی سمری ارسال کردی، سمری کے مطابق  وزیراعظم کی جانب سے صولت مرزا کی سزائے موت کو  تیس روز کیلئے مؤخر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے جاری ہونے والے نئے ڈیتھ وارنٹ میں صولت مرزا کو پھانسی دینے کیلئے یکم اپریل کی تاریخ طے کی گئی تھی۔سمری کی منظور ہونے کی صورت میں  نئی مہلت کا آغاز یکم اپریل سے ہوگا۔ پھانسی کا حتمی فیصلہ صدر مملکت کریں گے۔

واضح رہے کہ صولت مرزا کی خفیہ ویڈیو جاری ہونے کے بعد دوسری مرتبہ صولت مرزا کی پھانسی مؤخر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے صدر کو بھیجی گئی ایڈوائس میں کہا گیا ہے کہ صولت مرزا کی پھانسی یکم اپریل سے  تیس روز کیلئے روکی جائے۔

پس منظر :

اس سے قبل سابق کے ای ایس سی کے ایم ڈی کے قتل میں سزائے موت پانے والے مجرم صولت مرزا کو یکم اپریل کو  پھانسی دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ صولت مرزا کو مچھ جیل میں پھانسی دی جانی تھے، صولت مرزا نے 1996 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو قتل کیا تھا جس کے جرم میں اس سے قبل  19 مارچ کو صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔وزارت داخلہ  کی جانب سے بھی صولت مرزا کی پھانسی مؤخر کرنے کی  سمری  وزیراعظم کو ارسال کی گئی تھی۔

صولت مرزا ویڈیو :

بلوچستان کی مچھ جیل میں قید مجرم صولت مرزا کو  یکم اپریل کو  تختہ دار پرلٹکایا جانا تھا تاہم پھانسی سے چند گھنٹے قبل مجرم کا ویڈیو پیغام منظرعام پرآیا جس میں مجرم نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سمیت ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں  پرسنگین الزامات عائد کئے۔ صولت مرزا کے بیان نے ہلچل مچائی۔ اعلیٰ حکام فوری حرکت میں آئے۔ پھانسی 72 گھنٹے کے لیے روک دی گئی۔

پھانسی سے چند گھنٹے قبل صولت مرزا کے انکشافات نے کراچی سمیت ملک بھر میں سیاسی ماحول گرما دیا ، جس کے بعد  ہر طرف فون کی گھنٹیاں بھی بجنے لگی ہیں، آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment