جمعرات, 29 اکتوبر 2020


دھرنوں کی روایت حکومت اورلبرل جماعتوں نے شروع کی

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کا دھرنا ختم کرانے کیلئے حکومت اور مذہبی قیادت کو درمیانی راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی روایت لبرل جماعتوں نے شروع کی ، مذہبی جماعتوں کے افراد اور کارکنان اسی ملک کے شہری ہیں جنہیں دوسرے شہریوں کے برابر کے حقوق حاصل ہیں، میڈیا بھی اپنا متعصبانہ رویہ ترک کرے جبکہ حکومت بھی میڈیا کی باتوں میں نہ آئے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ نے عقیدہ ختم نبوت ﷺ کاقانون بحال کردیا ہے جس کے بعد حکومت کے پاس حالات سے نمٹنے کی قوت موجودہے لیکن حکومت اس بات کا بھی خیال رکھے کہ کسی قسم کی خونریزی نہ ہو کیونکہ ملک کسی سانحہ کامتحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی روایت حکومت اورلبرل جماعتوں نے شروع کی پی ٹی آئی ہویامسلم لیگ ن کسی کادامن دھرنوں سے پاک نہیں ہے، حکومت پرزوردیتاہوں انتہائی اقدام نہ کرے۔مفتی منیب الرحمان نے مطالبہ کیا کہ دھرنے کے شرکا درمیانی راستہ اختیار کریں جبکہ حکومت بھی لچک کا مظاہرہ کرے اور بامقصد اور براہ راست مذاکرات کرے تاکہ ایک ہی نشست میں معاملے کو حل کیا جاسکے۔
مفتی منیب الرحمان میڈیا کے رویے پر بھی سخت نالاں نظر آئے اور گلے شکووں کے انبار لگادیے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے خواجہ سراﺅں، نابیناﺅں ، سیاسی جماعتوں اور ہر شخص کو کوریج ملتی ہے لیکن مذہبی جماعتوں کو کوریج نہیں دی جاتی جس سے احساسِ محرومی بڑھ رہاہے، خدارا میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور مذہبی طبقے کو انتہا پسندی تک جانے سے بچائے۔
انہوں حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میڈیا کی باتوں میں ہرگز نہ آئے کیونکہ سانحہ لال مسجد سے پہلے میڈیا کا رویہ کچھ اور تھا لیکن جب آپریشن کر دیا گیا تو اس کے بعد میڈیا کا رویہ بالکل تبدیل ہوگیا، حکومت سانحہ لال مسجد سے پہلے اور بعد میں ہونے والے واقعات میں میڈیا کے کردار کا جائزہ لے تاکہ اس پر حقائق واضح ہو سکیں کیونکہ میڈیا کا کام ریٹنگ لینا ہے جبکہ حکومت کا کام سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment