جمعرات, 03 دسمبر 2020


تھلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے خون کی فراہمی کا عمل شدید متاثر

 
 
 
کراچی: شہر قائد میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بعد تھلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے خون کی فراہمی کا عمل شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے عوام سے خون عطیہ کرنے کی اپیلیں کر دی ہیں۔
 
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے تھلیسیمیا کے مریضوں اور بچوں کو خون کا عطیہ دینے کے لیے نوجوانوں اور کارکنان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائراس اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جو صورت حال سامنے آئی ہے اس نے ایک سنگین مسئلے کو جنم دیا ہے۔
 
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ تھلیسیمیا کے مریضوں اور بچوں کو خون کی عدم دستیابی بہت بڑا مسئلہ ہے، ان مریضوں کو ہر 15 دن میں خون چڑھایا جاتا ہے، اگر انھیں یہ خون وقت پر نہ ملے تو پھر ان بچوں کی زندگیوں خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، میں خاص طور پر ملک کے نوجوانوں، طالب علموں اور تحریک کے کارکنوں اور ساتھیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے گھروں کے قریب تھلیسیمیا سینٹرز پر خون کا عطیہ دیں۔
 
 
 
پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی راجہ اظہر خون کا عطیہ دے رہے ہیں
ادھر رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر بھی تھیلیسیمیا مرض میں مبتلا بچوں کے لیے خون عطیہ کرنے تھیلیسیمیا سینٹر پہنچے اور خون عطیہ کیا، انھوں نے مرض میں مبتلا بچوں سے ملاقات بھی کی، ان کا کہنا تھا کہ تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کی زندگیاں بچانا ہم سب کا فرض ہے، عوام سے اپیل ہے غیر ضروری گھروں سے نہ نکلیں مگر تھلیسیمیا کے بچوں کی زندگیاں بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے کہا لاک ڈاؤن کی صورت حال میں خون عطیہ کرنے والا عمل سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، شہریوں اور خصوصاً پی ٹی آئی کے ورکرز اور پارلیمنٹیرینز سے گزارش کروں گا وہ عطیات دیں۔
 
دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن سے تھیلیسیمیا کے مریض پریشان ہیں، ملک میں 49 ہزار تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کی زندگی خطرے میں ہے، لاک ڈاؤن کے دوران خون دینے جاتے ہوئے حکومتی احکامات کو مدنظر رکھیں لیکن خون دینے ضرور جائیں۔ انھوں نے دعوت اسلامی کے کارکنان سے اپیل کی کہ ملک بھر سے ان بچوں کے لیے خون کے عطیات دیں۔
 
fb-share-icon0Tweet20
Comments

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment