منگل, 27 ستمبر 2022


آؤٹ آف اسکول بچوں کی بتائی گئی تعداد درست نہیں،سید سردارعلی شاہ

: محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ آف نان فارمل ایجوکیشن کی طرف سے عالمی یوم خواندگی کے موقع پر کراچی کے مقامی ہوٹل میں منقدہ تقریب میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، سیکریٹری تعلیم غلام اکبر لغاری اور دیگر متعلقہ افسران سمیت بڑی تعداد میں سول سوسائٹی نے شرکت کی.

تقریب میں خواندگی کے حوالے سے پینل ڈسکشنز ہوئے جن میں سندھ میں تعلیم بالغان اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم اور اس سلسلے میں درپیش مسائل اور حکومتی کردار کے حوالے سے گفتگو کی گئی اور اصلاحی ٹیبلوز بھی پیش کیے گئے. اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سیکریٹری تعلیم غلام اکبر لغاری اور دیگر نے جاپان کے ادارے برائے عالمی تعاون JICA کے نمائندگان کے ساتھ ایڈوانسڈ کوالٹی الٹرنیٹو لرننگ (AQAL) کا چار سالہ پروجیکٹ لانچ کیا جوکہ 2021 سے 2025 تک جاری رہے گا. خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے اس پروگرام کے تحت 8 اضلاع میں 1440 سینٹرز قائم کیے جائیں گے جس سے 35 ہزار طالبات مستفید ہوسکیں گی.

اس کے علاوہ یورپی یونین کے تعاون سے چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کی 18 ماہ میں نان فارمل تعلیم کے پروجیکٹ کا بھی آغاز کیا گیا اور بعدازاں محکمہ تعلیم کے کریکیولم ونگ کی طرف سے تیار کردہ پوسٹ پرائمری/ ایلیمینٹری کریکیولم بھی لانچ کیا گیا.

اس موقع پر وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے صوبے میں تعلیم کے میدان میں حائل چئلینجز کا اندازہ ہے, اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے محکمے کی صلاحیتوں سے بھی واقف ہوں اپنے افسران، اساتذہ اور آفیشلز کی سچائیوں کا بھی پتہ ہے اور سماج میں پھیلی بچوں کی تعلیم کی پیاس کا بھی ادراک ہے.

انہوں نے کہا کچھ سیکٹرز کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ 60 لاکھ بچے اسکولزسےباہر ہیں اوراس تعدادپرمجھے اعتراض ہے. آپ 2018 کی مردم شماری میں بچوں کی ٹوٹل تعداد دیکھیں اور پھر سرکاری اسکولز، پرائیویٹ اسکولز اور سیف کے اسکولز میں بچوں کی تعداد دیکھیں تو پتا چل جائے گا کہ یہ 60 لاکھ کی فگر بتانے میں کیا سچائی ہے.

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کے حوالے سے یہ پہلے ہی واضع ہے کہ 17 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین کی جاری ہے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آؤٹ آف اسکول بچوں کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں ہے جوکہ ایک کروڑ 20-30 لاکھ سے زیادہ ہے.

کے پی کے میں بھی 30-40 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ سندھ کے لیے بتائی گئی 60 لاکھ کی تعداد درست نہیں ہے. فرنیچر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اسی سال 4-5 لاکھ بچوں کے لیے فرنیچر فراہم کردیا جائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ 46 ہزار اساتذہ کی تقرری سے پہلے نان وائیبل اسکولز کو سسٹم سے خارج کرینگے. نان وائیبل اسکولز کی فلٹریشن کے بعد محکمے کا بجیٹ، فنکشنل اسکولز میں ہی جائے گا تو ان میں بہتری آئے گی. ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسکولز میں اینرولیمنٹ ڈرائیو کا آغاز آج یہیں سے ہوچکا ہے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment