ھفتہ, 13 جولائی 2024


بچےکی اسسمنٹ کےلئےمروجہ طریقہ کارمیں تبدیلی کی ضرورت ہے،وزیرتعلیم سندھ

انٹر بورڈ کو آرڈی نیشن کمیشن کےتحت پہلی دوروزہ کانفرنس منعقد کی گئی۔

کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزراء تعلیم نے شرکت کی۔۔ صوبائی وزرا نے محمد علی جناح یونیورسٹی میں انٹر بورڈ کو آرڈی نیشن کمیشن کی پہلی دوروزہ کانفرنس کی میزبانی پر صدر ڈاکٹر زبیر شیخ کو خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پرنگراں وزیر تعلیم سندھ رعنا حسین نے کہا ہے کہ شعبہ تعلیم میں بہت اصلاحات کی ضرورت ہے، بچے کی اسسمنٹ کے لئے مروجہ طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ لوگ کہتے ہیں کہ شعبہ تعلیم میں کام نہیں ہوتا ایسا نہیں ہے ،شعبہ تعلیم اکیڈمک کی سطح پر بہت کام ہوا ہے تاہم انتظامی معاملات خراب ہیں رعنا حسین نے مزید کہا کہ اسمنٹ پر کام نہ ہونے میں رکاوٹ ہمارا پرانا تعلیمی نصاب ہے

انٹر بور ڈ کو آرڈیشن کمیشن کی دو روزہ کانفرنس میں چیئر مین خیبر پختو نخوا اور چیئر مین کوئٹہ بورڈز نے وزرا کو دستاویزی تجاویز پیش کیں۔

نگراں وزیر تعلیم بلوچستان ڈاکٹر قادر بخش بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں امتحانی بورڈز صرف طلبا کو ترجیح دیتے ہیں، امتحانی نظام کو بہتر نہیں کرتے نہ ہی کسی بھی بورڈ میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ طلبا کی صلاحیت اور انفرادیت کو پہچان سکے۔ پورے نظام تعلیم میں طلبا ہماری پروڈکٹ ہے، ہمارے اسسمنٹ پروڈکٹ میں کہیں نہ کہیں کمی ضرور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے اسمنٹ سے پہلے ان کی کریکٹر بلڈنگ پر توجہ دی جائے، کریکٹر سرٹیفکیٹ دینے سے پہلے حقیقی معنوں میں کردار کا جائزہ لیا جائے۔

دوروزہ کانفرنس کے آخری روز مختلف سیشن میں نصاب تعلیم میں بہتری کے لئے تجاویز بھی دی گئیں۔ آخر میں ڈاکٹر زپیر شیخ نے مہمانوں میں شیلڈ تقسیم کی۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment