جمعہ, 23 اگست 2019


ناسا کا حیران کن منصوبہ

امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ نے اب چاند پر انسان بردار مشن میں خاتون کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
 
ناسا نے منصوبہ بنایا ہے کہ 2024 میں وہ انسان بردار جو مشن چاند پر بھیجے گا اس میں خاتون شامل ہوں گی۔
 
یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے انسان بردار خلائی مشن جب 1969 میں چاند کی پر بھیجا تھا تو اس کا نام ’اپولو‘ رکھا تھا۔ قدیم یونانی تاریخ اور عقیدے کے مطابق اپولو دراصل روشنی اور موسیقی کے خدا کا نام ہے۔
 
ناسا اب جو انسان بردار خلائی مشن چاند پر بھیجے گا اس کا نام ’آرٹیمس‘ تجویز کیا گیا ہے جو یونانی عقیدے کے مطابق اپولو کی سگی بہن کا نام ہے۔
 
چاند کی ملاقات اب کس خاتون سے یہ ہوگی اس بات کا فیصلہ اب تک نہیں ہوسکا ہے لیکن کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے میں کام کرنے والی 12 خواتین میں سے کسی ایک کے حصے میں یہ خوش نصیبی آئے گی۔
 
چاند پر جانے والی خواتین امیدواران ماضی میں ڈاکٹر، سائنس دان اور یا پھر پائلٹ رہ چکی ہیں۔
 
تفصیلات کے مطابق 12 خواتین میں سے فوجی پائلٹ اين مکلين، انٹرنيشنل اسپيس اسٹيشن ميں ذمہ داریاں انجام دینے والی کرسٹينا کوک، ناسا میں موجود خلا باز جيسيکا مائر اور سابقہ ایئر فورس پائلٹ نکول مين زیادہ نمایاں ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment