جمعہ, 31 مئی 2024

وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والی کور کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے  پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

گزشتہ روز  ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں 2 وزرائے اعلیٰ اور 3 صوبوں کے گورنرز بھی شریک ہوئے۔

کور کمیٹی اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے تفصیلی فیصلے پر مشاورت ہوئی اور سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس حوالے سے ایک  پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے  بتایا کہکور کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے پرویز مشرف کے کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں شامل دیگر ارکان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں جلد بازی کی گئی اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ  خصوصی عدالت کے فیصلے سے فاصلے بڑھ رہے ہیں۔آئندہ چار سے پانچ دنوں میں ہونے والے ایک اور اجلاس میں حکومت کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

گزشتہ روز ہونے والی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا تھا کہ اجلاس میں مختلف ایشوز پر تفصیلی بحث کی گئی،اہم ایشو مشرف کے حوالے سے ہونے والا فیصلہ تھا۔

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کو مشرف کے فیصلے پر علی ظفر اور بابر اعوان نے تفصیلی طور پر کیس سے جڑے نکات سے بریف کیا، بابراعوان نے فیصلے میں موجود خلاء اور قانونی سقم سے آگاہ کیا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم کا کور کمیٹی کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ادارے ہر حال میں اہم اور مقدم ہیں، ہم نے اپنے اداروں کو تقویت دینی ہے اور ہم نے قانون اور آئین کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، ہم اداروں میں تصادم نہیں ہم آہنگی چاہتے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کے مطابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ادارے آئینی اور قانونی دائرے میں ذمہ داریاں نبھائیں، ہمیں افواج پاکستان کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے اورہمیں انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنانا ہے، انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہمارے منشور کا حصہ ہے۔

اسلام آباد کی خصوصی عدالت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں کن دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت کی۔

خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر کو پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی اور کیس کا فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا تھا۔

ذرائع کے مطابق اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے کیا جب کہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر محمد نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پرویز مشرف کی سزائے موت کا فیصلہ 150 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔

رجسٹرار خصوصی عدالت راؤ عبدالجبار کا کہنا ہے کہ کیس کا تفصیلی فیصلہ کچھ ہی دیر میں جاری کر دیا جائے گا اور فیصلے کی کاپی مقدمے کی پارٹیوں کو دی جائے گی۔

راؤ عبدالجبار کا کہنا ہے کہ فیصلے کے قانونی لوازمات پورے کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ کچھ دیر بعد جاری ہونے کا امکان ہے،

فیصلے کی کاپی لینے پرویز مشرف کی قانونی ٹیم عدالت پہنچ گئی۔

رجسٹرار خصوصی عدالت راؤ عبد الجبار نے کہا ہے کہہ تحریری فیصلہ پرویز مشرف کے وکلا کی ٹیم کو دیا جائے گا، تحریری فیصلہ میڈیا کو دینے کی اجازت نہیں، قانونی لوازمات پورے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب فیصلے کی کاپی کیلئے وزارت داخلہ و قانون کے نمائندے بھی عدالت میں موجود ہیں، پرویز مشرف کے نمائندہ خصوصی بھی عدالت پہنچ گئے۔

پنجاب اسمبلی کے باہر ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے فياض الحسن چوہان نے کہا کہ ملک کيلئے تين جنگيں لڑنے والا غدار کيسے؟ فوج کی قربانياں کسی سے ڈھکی چھپی نہيں ۔

فیاضالحسن نے مزید کہا کہ ادارے کے ايک فرد کو چننا سوالات کو جنم ديتا ہے،

سانحہ ماڈل ٹاؤن اورراؤ انوار پر تو کوئی پھانسی نہيں آرہی، معاشی دہشت گرد ضمانت لے کر باہر آرہے ہیں۔

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی صورتحال کے پیش نظر  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی صدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس آج شام 5 بجے ہو گا جس میں 2 وزرائے اعلیٰ اور 3 گورنر شریک ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ کور کمیٹی اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے تفصیلی فیصلے پر مشاورت ہو گی اور سابق صدر  پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذارئع کا کہنا ہے کہ مذکورہ فیصلوں پر مشاورت کرنے کے لیے وزیر اعظم نے تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کو خصوصی طور پر اجلاس کے لیے طلب کیا ہے۔پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانون سازی پر بریفنگ دے گی۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور  الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی کے لیے مشاورت بھی کی جائے گی۔ ذارئع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر بھی کور کمیٹی کو اعتماد میں لیں گے۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کی مشرف فیصلے سے منسوب گفتگو کی وضاحت ضروری ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ پرویز مشرف فیصلے کے حوالے سے گفتگو کی وضاحت ضروری ہے،

تاثر ملتا ہے کہ چیف جسٹس مقدمے پر اثر انداز ہوئے اور مخصوص فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، یہ انتہائی نا مناسب بات ہے جو چیف جسٹس پاکستان سے منسوب کی گئی ہے۔ 

سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر جہاں سوشل میڈیا پر بحث جاری رہی وہیں شوبز فنکاروں نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اداکار شان نے سابق صدر پرویز مشرف کے فیصلے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا یہ ایک افسوسناک دن ہےجب ایک محب وطن کو غدار قرار دیا گیا۔ پرویزمشرف سر آپ ہمیشہ ہمارے لیے محب وطن ہیں۔ ایک سچا پاکستانی، ایک بہادر سپاہی اور اس مٹی کا بیٹا۔ اس کے ساتھ ہی اداکار شان نے پاک آرمی زندہ باد کا ہیش ٹیگ استعمال کیا

سابق اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی پرویز مشرف فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا پرویز مشرف کیس کا فیصلہ آنے کے بعد کیا اب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور وہ تمام دانشور جنہوں نے نواز شریف کا فیصلہ آنے کے بعد عدالتوں پر اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی ہونے کا الزام لگایا تھا اب معافی مانگیں گے؟

اداکارہ مہوش حیات نے پرویز مشرف کیس کے فیصلے پر ایک آئرش سپاہی کا قول ٹوئٹ کیا جس کا مفہوم یہ ہے ’’مجھے جس جرم میں غدار ٹہرایا گیا ہے، اسے میں نے ایک مقدس فریضہ کے طور پر سرانجام دیا تھا، اور اسے ایک قربانی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مہوش حیات سابق صدر پرویز مشرف کے حق میں ٹوئٹ کرچکی ہیں۔ انہوں نے پرویز مشرف کی اسپتال کے بیڈ پر لیٹے ہوئے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر سوچیں یہ انسان ہمارے صدر رہ چکے ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں ہماری رہنمائی کی۔ انہیں چاہے پسند کریں یا ان سے نفرت کریں لیکن انہیں ایک موقع تو دیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔

سنگین غداری کیس میں سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت کا فیصلہ دیے جانے پروفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ایسے فیصلوں کا کیا فائدہ جن سے ادارے تقسیم ہوں

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے فیصلوں کا کیا فائدہ جن سے فاصلےاورتقسیم بڑھے اور قوم و ادارے تقسیم ہوں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وقت کے تقاضے ہوتے ہیں ملک کو جوڑنے کی ضرورت ہے، میں مسلسل کہہ رہاہوں گفتگو کی نئے معاہدےکی ضرورت ہے ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانا کسی کے مفاد میں نہیں، ملک پر رحم کریں۔

 

 

ایمز ٹی وی(اسلام آباد) سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیاہے کہ شیخ رشید نے میرے پاﺅں پکڑ کر کہا کہ ضیاالحق کی کابینہ میں وزیر بن جاﺅ ۔ جاوید ہاشمی اور پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کے گرما گرمی ہو گئی ، فواد چودھری نے کہا کہ پرویز مشرف جھوٹ نہیں بولتے، نواز شریف کے ساتھی پکے جھوٹے ہیں۔ جس پر جاوید ہاشمی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ملک سے باہر نہیں جانا چاہتے تھے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ جمہوریت کا درس دینے والے جاوید ہاشمی ضیا کی کابینہ کے پہلے وزیر تھے۔جس پر سینئر سیاستدان نے کہا کہ شیخ رشید نے پاوں پکڑ کر کہا تھا کہ ضیا الحق کی کابینہ میں وزیر بن جا۔ جاوید ہاشمی نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو پاکستان لائیں۔

 

 

ایمز ٹی وی(دبئی) آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے ،انہوں نے غلط وقت پر ایسا بیان دیا، عجیب وزیردفاع ہیں جو اپنی فوج کے خلاف بولتے ہیں ، سویت یونین کے خلاف مجاہدین کو لایا گیا تھا، ان کے خلاف لڑنا ہمارے حق میں تھا، حکومتی پالیسیاں موقع کے حساب سے بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں ، ہمیں مجاہدین اور دہشت گردوں میں فرق کرنا ہوگا ، پانامہ کیس میں ججز پر بہت پریشر ہے ، بھارت کا ارادہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے وہ افغانستان سے دہشت گرد بھیجتا ہے ، ہمیں بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے ، جنگ دونوں ملکوں کیلئے نقصان دہ ہے ۔ خواجہ آصف کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے،انہوں نے غلط وقت پر ایسا بیان دیا ہے ، سویت یونین کے خلاف مجاہدین کو لایا گیا تھا اور ان کے خلاف لڑنا ہمارے حق میں تھا ۔ پرویز مشرف نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں موقع کے حساب سے بنتی ہیں اور ختم ہوتی ہیں ، مجاہدین اور دہشت گردوں میں ہمیں فرق کرنا ہوگا ، پاکستان کو کھوکھلا کرنے والے اصل دہشت گرد ہیں ، ہمارے عجیب وزیر دفاع ہیں جو فوج کے خلاف بولتے ہیں ، بھارت کا ارادہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے ،بھارت افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں بھیجتا ہے اور کاروائیاں کرواتا ہے ، بھارت ہمیں ختم کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے ، جنگ دونوں ملکوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے ، فوجی عدالتوں پر مفادات کی سیاست ہو رہی ہے ۔ سابق صدر نے کہا کہ نوازشریف نے مجھ سے فوجی عدالتیں بنوائی تھیں ، کراچی ملیر کینٹ میں فوجی عدالتیں بنوائی گئیں تھیں ، ان لوگوں کو صرف سیاست عزیز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عناصر کا دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے ، فوج کو سیاسی معاملات میں کم سے کم ملوث کرنا چاہیے ، رینجرز اور ایف سی کو زیادہ طاقتور کرنا چاہیے ، پانامہ کیس میں عوام کی عدالت ایکٹو ہے ، اس میں نوازشریف بالکل بری نہیں ہوں گے ، پانامہ کیس میں ججز پر بہت پریشر ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی وجہ سے امریکہ ہم سے ناراض ہے ،ہمیں ان غلط فہمیوں کے دور کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے ،خواجہ آصف وزیر دفاع ہوتے ہوئے فوج کے خلاف بول رہے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے بھارت کو دیئے جانے والے ڈرون پر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ،ہمارے پاس ڈرون بھی ہیں اور ہتھیار بھی ،ہم بھی اپنے ڈرون بھیج کر ان کی ساری نقل و حرکت دیکھ سکتے ہیں ،امریکہ نے بھارت کو فوٹو گرافی والے ڈرون دیئے ہوں گے ،ہل فائر میزائل والے ڈرون نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ضرب عضب وزیرستان میں لانچ ہوا تھا جہاں دہشت گردوں کو مکمل سپورٹ حاصل تھی ،جہاں سے خود کش جیکٹ تیار ہوتی تھیں ،نارتھ وزیرستان کی حد تک آپریشن ضرب عضب انتہائی کامیاب تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ مساجد اور مدرسوں کو کچھ عناصر مس یوز کرتے ہیں ،اس پر کھل کر بات کرنی چاہئے ،کوئی ایسا قانون بننا چاہئے کہ پشاور کا بچہ پشاور کے مدرسے میں ہی تعلیم حاصل کرے اور کراچی کا بچہ کراچی کے مدرسے میں ہی پڑھے ،اس طرح کا اگر قانون بن گیا تو آدھے مسائل حل ہو جائیں گے ۔ملٹری کورٹ کے حوالے سے ایک سوال پر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں پر سیاست ہو رہی ہے ،سول کورٹ میں ہونے والے ٹرائل میں دہشت گردوں کے خلاف گواہ آنے سے ڈرتے ہیں جبکہ ججز بھی فیصلہ دینے سے کتراتے ہیں ،اس کی فیملی کو دھمکیاں دی جاتی ہیں ،اس کا حل صرف ملٹری کورٹ ہی ہے،نوازشریف نے مجھ سے فوجی عدالتیں بنوائی تھیں ، کراچی ملیر کینٹ میں فوجی عدالتیں بنوائی گئیں تھیں ، ان لوگوں کو صرف سیاست عزیز ہے

 

Page 1 of 2