اتوار, 20 اکتوبر 2019


19 سال بعد ملک بھر میں 6 مردم شماری کی گھما گھمی

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)بھر میں 19سال بعد خانہ و مردم شماری کا آغاز ہوگیا ہے جو 25مئی تک مکمل ہو گا۔مختلف شہروں میں شمار کنندگان کو متعلقہ سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔ صبح 8بجے ملک بھر کے منتخب اضلاع میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کے دوران ایک لاکھ 18ہزار سے زیادہ شمارکنندگان پہلے 3روز تمام عمارتوں کی گنتی کریں گے اور پھر 18مارچ سے افراد کی گنتی شروع ہو گی، فوج کے 2لاکھ جوان سیکیورٹی کے لئے بھی موجود ہوں گے۔
14 اپریل تک جاری رہنے والے مردم شماری کے پہلے مرحلے میں خصوصی فارم اور جدید ترین مشینری استعمال ہوگی تاکہ کوئی بھی مردم شماری کے نتائج پر اعتراض نہ کر سکے۔پہلے مرحلے میں پنجاب سے جو اضلاع شامل ہیں ان میں لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے نام اہم ہیں جب کہ سندھ میں کراچی کے 6اضلاع کے علاوہ حیدرآباد اور گھوٹکی میں بھی مردم شماری ہوگی۔
خیبرپختونخوا کے ضلع پشاور، مردان، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور فاٹا میں اورکزئی ایجنسی جیسے اضلاع میں لوگوں کی گنتی ہوگی۔ بلوچستان سے کوئٹہ، نصیرآباد، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے اضلاع مردم شماری کے پہلے مرحلے کا حصہ ہیں۔ اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 5، 5اضلاع میں مردم شماری پہلے مرحلے میں ہی ہوگی۔مردم شماری کے لیے کراچی کو 14ہزار 552بلاکس میں تقسیم کر کے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، فوج اور رینجرز کے علاوہ 16ہزار پولیس افسران اور اہلکار سیکورٹی فرائض سرانجام دیں گے۔ شہرقائد کو اس مقصد کے لیے 365چارجز، 2 ہزار 412سرکلز اور 14ہزار552بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک شمار کنندہ 2بلاکس کا ذمہ دار ہوگا، ایک بلاک کی خانہ شماری 15سے17مارچ تک جاری رہے گی اور پھر 18سے27مارچ تک اسی بلاک کی مردم شماری ہوگی جب کہ 28مارچ کا دن بے گھر افراد کی شماری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
خانہ اورمردم شماری کے لیے 16ہزار افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے جن میں سے 10ہزار500اہلکار کراچی جبکہ ساڑھے 5ہزار اہلکار اندرون سندھ سے بلائے گئے ہیں۔آصف باجوہ کے مطابق شمار کنندہ عملے میں مختلف محکموں کے 1لاکھ 18ہزار افراد شامل ہیں جن میں پاکستان شماریات بیورو سے تعلق رکھنے والا عملہ بھی شریک ہے، جبکہ ان تمام افراد کو مردم شماری کے لیے خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ اضلاع میں 1لاکھ 75ہزار فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جو شمار کرنے کے ساتھ ساتھ سروے کرنے والے عملے کو سیکیورٹی بھی فراہم کریں گے۔
خیال رہے کے مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15اپریل تک مکمل ہوجائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز 25اپریل سے ہوگا جو 25مئی تک جاری رہے گا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مردم شماری کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی نہیں، پرانے شناختی کارڈ، ب فارم، پاسپورٹ یا شناخت کی کوئی اور دستاویز بھی کافی ہو گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہیں وہ بھی مردم شماری میں شامل ہو سکتے ہیں، اگر کسی خاندان کے پاس شناختی کارڈ نہیں تو وہ کوئی اور شناخت بھی ظاہر کر سکتا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ مردم شماری میں پاک فوج کی خدمات قابل تعریف ہیں اور پاک فوج کی شمولیت سے مردم شماری میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری سو فی صد شفاف بنائی جائے گی۔انہوں نے مردم شماری کے لئے وزیر اعلی سندھ کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے مردم شماری کے لئے بھرپور معاونت کی۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وزیر اعلی سندھ کی تجویز سے پہلے ہی خصوصی شکایت سیل قائم کر دیا گیا ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment