اتوار, 21 اکتوبر 2018


عماد وسیم کی فٹنس کے حوالے سےتمام شکوک دور ہوگئے

 

ایمزٹی وی(اسپورٹس)کراچی کنگز کے کپتان نے اسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد ٹیم ہوٹل میں دیگر کھلاڑیوں کو جوائن کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور قلندرزسے میچ میں سہیل خان کا کیچ لیتے ہوئے عماد وسیم سر کے بل گرگئے تھے جس کے بعد انھیں گراؤنڈ سے اسٹریچر پر لے جایا گیا، ہلکی غنودگی کی کیفیت پائے جانے پر انھیں کم از کم 24گھنٹے اسپتال میں زیر نگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا،اس دوران ضروری ٹیسٹ بھی لیے گئے۔کراچی کنگز کی مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ عماد وسیم کی فٹنس کے حوالے سے تمام شکوک دور ہوگئے اور اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد وہ ٹیم ہوٹل واپس پہنچ گئے ہیں،امید ہے کہ اگلے میچ میں ٹیم کی قیادت کرینگے۔
دوسری جانب اسلام آباد یونائیٹڈ کے رومان رئیس پی ایس ایل تھری سے باہر ہوگئے، وہ ایونٹ کے ابتدائی مرحلے میں ہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے میچ کے دوران فیلڈنگ کرتے ہوئے سلپ ہوئے تو گھٹنہ زمین سے ٹکراگیا،شدید زخمی ہونے کے سبب انھیں اسٹریچر پرمیدان سے باہر لے جایا گیا تھا،زیر علاج رہنے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ رومان صحتیاب ہو کر جلد ٹیم کا حصہ بن جائیں گے لیکن انھیں میدان میں اتارے جانے کا خطرہ مول لینے سے گریز کیا گیا ہے۔اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیاکہ ٹیم کے فزیو ایرل ایلکاٹ رومان کی چوٹ کا معائنہ کرنے والے مقامی اسپتال کے ڈاکٹر سے رابطے میں تھے۔
وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اگرچہ رومان کی حالت میں بہت بہتری آئی ہے لیکن ان کا گھٹنہ بولنگ کرتے ہوئے زیادہ وزن برداشت نہیں کرسکتا،ڈاکٹر کا مشورہ یہی ہے کہ رومان کو مکمل صحتیابی تک آرام کرنا چاہیے،پیسر کی خدمات سے محرومی افسوسناک ہے لیکن کسی بڑی انجری سے محفوظ رکھنے کیلیے فی الحال ان کا آرام کرنا ہی درست فیصلہ ہے۔
یاد رہے کہ رومان رئیس سے قبل ویسٹ انڈین آل راؤنڈر آندرے رسل ہیمسٹرنگ انجری کے سبب پی ایس ایل چھوڑ کر چلے گئے تھے۔دریں اثناکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آل راؤنڈر جان ہیسٹنگز بھی انجری کے باعث ایونٹ کے باقی میچز نہیں کھیل پائیں گے، آسٹریلوی کرکٹر سائیڈ اسٹرین کی وجہ سے وطن واپسی پر مجبور ہوگئے،ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آل راؤنڈر کے متبادل کا اعلان جلد کردیا جائے گا، ہیسٹنگز نے کہاکہ پی ایس ایل بہترین لیگ ہے جس میں بہترین ٹیلنٹ دیکھنے کو ملا، انجری کے سبب ایونٹ چھوڑجانے پر مجھے مایوسی ہو رہی ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment