جمعہ, 12 اگست 2022


بازارمیں جماعت اوّل تا 12ویں جماعت کی کتابوں کی کمی

کراچی: سندھ بھر میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا لیکن کتابوں کی کمی کو تاحال پورا نہ کیا جاسکا۔

سندھ میں کئی ماہ کی تاخیر کے بعد نئے تعلیمی سال کےآغازپر طلبہ خالی بستے لےجانے پرمجبور ہیں کیوں کہ بازار میں جماعت اوّل تا 12ویں جماعت کی کتابیں دستیاب ہی نہیں ہیں۔

اس حوالے سے کتب فروش حضرات کاکہناہے کہ رواں سال 2021میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نئے سال کی ایک کتاب بھی بازار میں دستیاب نہیں ہے جب کہ نیا تعلیمی سال پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے جب کہ کتابوں کے ساتھ کاپیوں اور اسٹیشنری کی قیمتوں میں بھی کئی گنااضافہ کیا جاچکا ہے

تین ماہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ میں19 گریڈ کے افسر پرویز بلوچ کو چئیرمین مقرر کیا گیا تھا مگر انھوں نے بازار کی کتب کی چھپائی کے سلسلے میں پبلیشرز کو ورک آڈر تاخیر سے دیا اور کتابوں کی نئی قیمتوں کی منظوری بھی گزشتہ ہفتے دی تھی جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی اور اب تاخیر سے کتابیں بازار میں دستیاب ہوں گی۔

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ میں چئیرمین اگر چہ نئے ہیں تاہم سیکریٹری حفیظ اللہ کے ساتھ ان کی ورکنگ ریلیشن نہیں بن پائی ہے حفیظ اللہ جو بنیادی طور پر کالج کے اسٹنٹ پروفسیر ہیں اور طویل عرصے سے کالج میں پڑھانے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر تعینات ہیں۔ ایک پبلیشر نے میڈیا کو بتایا کہ ہماری پہلی ترجیح جماعت اوّل تا دہم مفت درسی کتب کی چھپائی پر مرکوز رہی اور ہم وہ سابق چئیرمین احمد بخش ناریجو کے دور میں چھاپ چکے ہیں اب اگلا مرحلہ بازار کی کتابوں کا تھا جس کے ورک آڈر تاخیر سے ملے اور پھر قیمتوں کا تعین بھی دیر سے کیاگیا تاہم ہم ستمبر کے پہلے ہفتے تک کتابیں بازار میں لانا شروع کردیں گے۔

نئی کتابوں کی عدم دستیابی کے باعث لوگ پرانی اور ان کی فوٹو اسٹیٹ کاپی خریدنے پر مجبور تھے تاہم کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی بعض کتب بھی بازار میں موجود نہیں تھیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment