بدھ, 01 دسمبر 2021


جامعہ کراچی: ذیابیطس کےعالمی دن کی مناسبت سےسیمیناراورآگاہی واک کاانعقاد

کراچی : کراچی یونیورسٹی کلینک کے زیر اہتمام ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے کراچی یونیورسٹی کلینک میں منعقدہ آگاہی سیمینار اورآگاہی واک کا انعقادکیا گیا۔

اس موقع پرنیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائیبیٹس ایجوکیٹر پاکستان کے صدر ڈاکٹر محمد سیف الحق نے کہا کہ پاکستان ذیابیطس کے شکارافراد کے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبرپر جبکہ ذیابیطس کے پھیلاؤ کی شرح میں سرفہرست ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہے جہاں پر دوران حمل پائی جانے والی ذیابیطس بعد میں ٹائپ ٹو میں تبدیل ہوجاتی ہے۔حالیہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے شکارافراد کی تعداد تین کروڑ تیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے،جبکہ ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کو شوگر ہوچکی ہے لیکن انہیں اس کا ادراک ہی نہیں ہے اوروہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہمیں شوگر کیوں ہوگی۔

ڈاکٹر سیف الحق نے مزید کہا کہ سب سے پریشان کن صورتحال یہ ہے 12 تا20 برس کے بچوں میں ذیابیطس تیزی سے پھیل رہاہے جو قابل توجہ اور لمحہ فکریہ ہے۔دنیا بھر میں اندھے پن،گردوں کے فیل ہونے،ٹانگیں کٹ جانے،دل کادورہ اور دل کے دیگر امراض کی بڑی وجہ ذیابیطس ہے۔جامعات کسی بھی معاشرے کی ترقی،درپیش مسائل کے حل اور بہتری کے لئے مثبت اور کلیدی کردار اداکرتی ہیں کیونکہ جامعات ہی پالیسیاں مرتب کرنے کی بہترین جگہ اور معاشرے میں آگاہی پھیلانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
س موقع پرجامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ2019 ء میں پاکستان ذیابیطس کے شکار افراد اور اس کے تیزی سے پھیلاؤ والے دنیا کے دس سرفہرست میں ممالک میں شامل تھاجبکہ حالیہ درجہ بندی کے مطابق پاکستان ذیابیطس کے سب سے زیادہ پھیلاؤ والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آتاہے جس کی بڑی وجہ اس معاملے میں عدم سنجیدگی اور طرززندگی میں عدم تبدیلی ہے۔پاکستان اب ذیابیطس کے پھیلاؤ میں چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) ذیابیطس اٹلس کے 10ویں ایڈیشن جو 14 نومبر 2021 کو جاری کیا گیا ہے نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں تقریباً 33 ملین لوگ ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومتی حکام نے ذیابیطس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کو کم کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی اور عام لوگوں نے بھی ملک میں ذیابیطس کے تناسب کو کم کرنے کے لیے صحت مند طرز زندگی اپنانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔اگرذیابیطس کی شرح میں اسی تیزی سے اضافہ ہوتارہا اور ہم نے اس مرض کی روک تھا م کے لئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے اور اپنا طرز زندگی تبدیل نہ کیاتوپاکستان ذیابیطس کے شکار افراد کے ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہوگا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد عراقی نے اعلان کیا کہ اگلے مہینے سے جامعہ کراچی میں ہفتے میں ایک دن ”وہیکلز فری ڈے“ طور پر منایاجائے گا۔ اساتذہ اورطلبہ میں پیدل چلنے کی اہمیت اجاگرکرنے کے لئے یہ قدم اُٹھایاجارہاہے۔اس طرح آگاہی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ جامعہ کراچی ذیابیطس کی روک تھام کے لئے بھی اپنا کردار اداکرسکے گی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسزکراچی ڈاکٹر محمد عرفان فاروقی نے کہا کہ حکومت سندھ ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر سنجیدہ اقدامات کررہی ہے اور اسی سلسلے میں صوبے کے تمام اضلاع کی سطح پر قائم ہیلتھ سینٹر میں ذیابیطس کی تشخیص،اس کی روک تھام سے متعلق آگاہی اور علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کئے جائیں گے۔مذکورہ ڈیسک قائم کرنے کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو معذورسے بچانا ہے۔ڈاکٹر اکمل وحید نے سیمینار میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ ذیابیطس کے سرفہرست ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر آتاہے جو ایک خطرناک صورتحال ہے،جس کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا ناگزیر ہوچکے ہیں کیونکہ بیمارافرادپر مشتمل معاشرہ ایک بیمار قوم کو جنم دیتی ہے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment