اتوار, 25 فروری 2024


سرسیدیونیورسٹی کےزیرِاہتمام 39 ویں آل پاکستان آئی ٹرپل اِی اسٹوڈنٹس سیمینارکاانعقاد

کراچی: سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی(SSUET) اور انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانک انجینئرز (IEEEP)کے باہمی اشتراک سے 39 ویں آل پاکستان آئی ٹرپل اِی اسٹوڈنٹس سمینار کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی کے الیکٹرک (K-Electric) کے چیف پیپل آفیسر (Chief People Officer) رضوان ڈالیاتھےجبکہ شرکاء میں IEEEP کراچی چیپٹر کے چیئرپرسن انجینئر خالد پرویز، IEEEP اسٹوڈنٹس سیمینار کی کنوینئر ڈاکٹر شاہینہ نور، انجینئر نوید انصاری، انجینئر اشتیاق الحق، انجینئر مونس صدیقی، روسائے کلیات، سربراہانِ شعبہ جات، اساتذہ اور طلباء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ایونٹ کا مقصد انڈسٹری اور ایکڈمیا کے مابین تعلقات کو فروغ دینے اور روابط کو بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے چیف پیپل آفیسر رضوان ڈالیا نے کہا کہ ملک کے ترقی نہ کرنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے انجینئرز کی اہمیت و مہارت کو حقیقی معنوں میں سمجھا ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباء کو انٹرن شپ کی بجائے دورانِ تعلیم کسی انڈسٹری سے چھ ماہ یا سال بھر کے لیے منسلک ہوجانا چاہئے تبھی ان کی موزوں و مناسب ٹریننگ ممکن ہے۔اساتذہ کو بھی اپنی قابلیت و مہارت میں اضافہ کرنے کے لیے انڈسٹری میں ٹریننگ کرنی ضروری ہے۔
دورِ حاضر میں نئی ٹیکنالوجیز کی وجہ سے کام نہ صرف آسان ہوگیا ہے بلکہ اس کے معیار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ہم اپنے ادارے میں پیشگی مطلع کرنے والے ماڈل کی پیروی کررہے ہیں۔اب ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف ٹرانسفارمر کے پھٹنے کا قبل از وقت پتہ چلا لیتے ہیں بلکہ اسے پھٹنے سے پہلے ہی تبدیل بھی کردیتے ہیں۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ یہ تقریب علم کے تبادلے، باہمی اشتراک اور عزم کا ایک ناقابلِ یقین سفر ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکوریٹی، مشین لرننگ، ٹیک کنٹرول سولیوشن، اور ایمبیڈڈ سسٹم جیسے شعبوں میں طلباء کی شاندار پریزنٹیشن، انکی تخلیقی اور علمی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
سرسیدیونیورسٹی کے رجسٹرار کموڈور (ر) انجینئرسید سرفراز علی نے کہا کہ یہ تقریب جدت، تحقیق اور تعاون کے جذبے کی اعلیٰ مثال ہے اور یہ فورم فائنل ایئر اور پوسٹ گریجویٹ اسکالرز کو اپنی بہترین ذہنی صلاحیتوں اور تحقیقی کاوشوں کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مسلسل ارتقائی سفر کی جانب گامزن الیکٹریکل، کمپیوٹر، سافٹ ویئر انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، الیکٹرانکس، بائیومیڈیکل اور دیگر انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ شعبوں میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے فیکلٹی آف الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر نے کہا کہ دورِ حاضر کے دو اہم ایشوز ہماری اجتماعی بیداری کا تقاضا کرتے ہیں۔ایک ذمہ دار تعلیمی کمیونیٹی کے طور پر ہمیں اپنی تحقیق اور معمولات میں پائیدار طریقوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

اختتامِ تقریب پر نتائج کا اعلان کیا گیاجس کے تحت دو کیٹیگریز یعنی گولڈ اور سلور میں 6 انعامات کا اعلان کیا گیا۔گولڈ کیٹیگری میں روحیل رشید (سرسید یونیورسٹی)، محمد باسط (مہران یونیورسٹی) اور ماہ نور محمود(NUST) فاتح قرار پائے اور سلور کیٹیگری میں کاشان خان(سرسید یونیورسٹی)، جواد ملک(سرسید یونیورسٹی) اور مناہل کمال (رفاح یونیورسٹی) کو فاتح قرار دیا گیا، جبکہ سرسید یونیورسٹی نے فاتحین کی زیادہ تعداد پر مقابلے کی ٹرافی حاصل کی۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment