اتوار, 03 مارچ 2024


پاکستانی کپتان مصباح الحق کا جواز سابق بیٹسمین جاوید میانداد کو ہضم نہ ہوسکا

ایمزٹی وی (کھیل)جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ ٹیم کی قسمت اچھی تھی کہ نیوزی لینڈ سے سیریز ڈرا ہوگئی، اگر کھلاڑیوں کو فل ہیوز کی موت کا اتنا ہی افسوس تھا تو دوسرے دن بیٹنگ کے لئے کیوں آئے تھے؟ آئی سی سی نے باؤنسرز پر مزید پابندی لگائی تو پھر کھیل میں فاسٹ بولرز کا کیا کام باقی رہے گا، انھوں نے ان خیالات کا اظہار ایک انٹرویو میں کیا۔ جاوید میانداد نے کہا کہ آسٹریلیا کے پاس ٹیسٹ سیریز میں مائیکل کلارک اور اسٹیون اسمتھ کے سوا باقی سب ہی ون ڈے بیٹسمین تھے، خوش قسمتی سے ٹاس جیتنے کی وجہ سے پاکستان وہ سیریز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا مگر نیوزی لینڈ کا معاملہ دوسرا اور اس کے پاس اچھے ٹیسٹ بیٹسمین موجود تھے، اس لیے گرین کیپس کو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ یہ سیریز برابری پر ختم ہوئی۔

انھوں نے کپتان مصباح الحق کی جانب سے شارجہ ٹیسٹ میں شکست کی وجہ فل ہیوز کی موت کے صدمے کو قرار دینے پر کہا کہ اگر ایسی بات تھی تو پھر انھیں دوسرے دن بیٹنگ کے لیے آنا ہی نہیں چاہیے تھا، پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ ہمارے کھلاڑیوں کو مغربی پلیئرز کی بانسبت ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہونا چاہیے لیکن وہ کہیں زیادہ بہتر انداز میں کھیلے، ان کے سامنے ہمارے بولرز بیوقوف دکھائی دے رہے تھے۔ فل ہیوز کی المناک موت کے حوالے سے جاوید میانداد نے کہا کہ مجھے اس پر کافی افسوس ہوا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آئی سی سی کی جانب سے ایک اوور میں صرف 2باؤنسرز کی حد بہت ہے، اس میں مزیدکمی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر فاسٹ بولرز کا کیا کردار باقی رہ جائے گا جب ہم لوگ کھیلا کرتے تھے تب تو باؤنسرز پر کوئی پابندی نہیں تھی، میں نے ویسٹ انڈیز میں مسلسل 6 باؤنسرز کا سامنا کیا تھا، ہم سب فانی ہیں اور حادثہ کسی بھی وقت کہیں بھی ہوسکتا ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ مزید پابندیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

جاوید میانداد نے مصباح الحق کی ان ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس اور انداز کپتانی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا اور یونس خان کا ٹیسٹ کرکٹ میں فی الحال کوئی متبادل نہیں ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment