پیر, 24 جون 2024

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنادیا ہے۔ 43 صفحات پر مشتمل فیصلہ سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا جس میں انہوں نے قائداعظم کے تین فرمان کا بھی تذکرہ کیا۔ قائد اعظم نے کہا کہ میں مسلمانوں کو خبردار کرتا ہوں کہ اپنے غصے پر قابو رکھیں، رد عمل سے ریاست کو خطرات میں نہیں ڈالنا چاہیے، پاکستان میں قانون کی عملداری ضروری ہے ورنہ لا قانونیت ملک کی بنیادیں ہلا دے گی۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں 12 مئی واقعے، 2014 میں پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے دھرنے اور فیض آباد دھرنا تینوں واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 12 مئی 2007 کے ذمہ داران کو کوئی سزا نہیں دی گئی اس عمل سے تحریک لبیک کو شہ ملی۔

فیصلے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو نفرت، انتہا پسندی، دہشت گردی پھیلانے والوں کی نگرانی کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ 12 مئی 2007 کے واقعہ نے تشدد کو ہوا دی، اس دن کراچی میں قتل عام کے ذمہ دار اعلی حکومتی شخصیات تھیں، سڑکیں بلاک کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ضروری ہے۔

فیصلے کے مطابق سیاسی جماعت بنانا اوراحتجاج آئینی حق ہے، مگر احتجاج کے حق سے دوسرے کے بنیادی حقوق متاثرنہیں ہونے چاہیے، ہرسیاسی جماعت فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہے اور الیکشن کمیشن قانون کے خلاف ورزی کرنے والی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرے، آئین میں احتجاج کا حق نہیں بلکہ جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے۔

فیصلہ  میں کہا گیا کہ تمام حساس ادارے اپنی حدود سے تجاوزنہ کریں اور ان کی حدود طے کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے،  آئین پاک فوج کو سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بننے سے روکتا ہے اور فوج کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت نہیں کر سکتی، وزارت دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیض آباد دھرنے کے دوران ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام رہی، اداروں کے درمیان تعاون کا فقدان تھا، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں تھی، وفاقی یا صوبائی حکومت کے خلاف نفرت انگیزی بغاوت کے زمرے میں آتی ہے جس کی سزا عمر قید ہے، کسی کے خلاف فتوی دینے والوں کا ٹرائل انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ہونا چاہیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ تحریک لبیک نے قانون کی زبان میں غلطی درست کرنے کے باوجود دھرنا جاری رکھا جس سے جڑواں شہر مفلوج ہو گئے اور سپریم کورٹ سمیت تمام سرکاری، غیرسرکاری اداروں کا کام متاثر ہوا، ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر تصحیح کے باوجود تحریک لبیک نے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا اور دھرنا قائدین نے دھمکیوں اور گالیوں کے ساتھ نفرت پھیلائی، 16 کروڑ 39 لاکھ 52 ہزار کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور ملک میں معاشی سرگرمیوں کو روک دیا گیا، قانون شکنی پر سزا نہیں ہوگی تو قانون شکنوں کا حوصلہ بڑھے گا۔

فیصلہ میں کہا کیا کہ از خود نوٹس اختیار شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ از خود نوٹس اختیارات کے تحت اس قسم کے معاملات میں عوامی مفاد میں دخل دے سکتی ہے۔

فیصلے کے کاپی حکومت پاکستان، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ کو آئی ایس آئی ،آئی بی اور فوج کے سربراہ کو بجھوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ کی منظوری کے دوران ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی پرتحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ نے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دیا تھا، دھرنے کے خاتمے کے لئے عدالت نے حکم بھی جاری کیا تھا تاہم طاقت کے استعمال پرکئی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا اورملک بھرمیں دھرنے دیئے گئے۔

 

لاہور : سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان پانی کی کمی سےمتعلق خطرناک دہانے پر ہے ، ڈیم کی مہم چلانا اور آگاہی اصل مقصد تھا، ڈیم کیلئے جمع کیےگئے فنڈز کا سپریم کورٹ ضامن ہے، حکومت نے ڈیم کیلئے جو اقدامات کیے قوم کوآگاہ کرے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پانی حیات ہے اس کےبغیرزندگی کاتصورنہیں، پانی قدرت کاتحفہ ہے، جس سے زندگی جڑی ہے۔ سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی کوکراچی میں محسوس کیا، کوئٹہ میں سماعت کررہا تھا تو پانی کے ذخائرمیں کمی کاپتہ چلا، پاکستان پانی کی کمی سےمتعلق خطرناک دہانے پر ہے۔جسٹس(ر) ثاقب نثار نے کہا سندھ کے لیے 3 اور پنجاب کیلئے 2 بڑے ڈیم کے آرڈر دیئے، راول ڈیم میں آبادیوں کا فضلہ جارہاہے، راول ڈیم کا پانی راولپنڈی کے لوگوں کو پینے کیلئے دیا جارہا ہے، ہمیں پانی کےمسئلے پر جدوجہد کرنا پڑے گی، پانی کو محفوظ کرنے اور استعمال پر ہمیں کام کرناہے۔ان کا کہنا تھا کہ واسا پانی کے لیے کم پیسے لے رہا ہے،

واسا منرل واٹر کی کمپنیوں سےایک پیسہ نہیں لے رہا تھا، ایک حجت پوری کرنے کیلئے ایک پیسے کا چوتھائی قیمت لگائی، میں نے منرل واٹر اور بیوریجز پر ایک پیسہ قیمت لگائی، 8 بلین گیلن پانی منرل واٹر کمپنیاں زمین سے نکالتی ہیں۔سابق چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ڈیم کے لئے 9 ارب روپے جمع کرچکے ہیں، ڈیم کی مہم چلانا اور آگاہی اصل مقصد تھا، ڈیم کیلئے جمع کیےگئے فنڈز کا سپریم کورٹ ضامن ہے، حکومت نے ڈیم کیلئے جو اقدامات کیے قوم کوآگاہ کرے۔

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مفرور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی قیمتی گاڑیوں کا سراغ لگانے میں ناکام ہوگیا۔

 
اسحاق ڈار نیب کیس میں مفرور ہیں اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ان کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم نیب تین ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسحاق ڈار کی کروڑوں مالیت کی دو قیمتی گاڑیوں کو تلاش کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔
 
نیب لاہور نے گاڑیوں کی تلاش کے لیے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی کو مراسلہ لکھا لیکن وہ بھی اس سلسلے میں نیب کی مدد نہ کرسکا۔
 
ذرائع کے مطابق گلبرگ تھری میں واقع اسحاق ڈار کی رہائشگاہ سے دو قیمتی گاڑیاں تین ماہ سے غائب ہیں جن میں مرسڈیز بینز نمبر MV-19 اور لینڈ کروزر نمبر AY-19 شامل ہیں۔

 

اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی فریال تالپورنے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف الگ سے نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائرکردی ہےدرخواست فاروق ایچ نائیک کی جانب سے دائرکی گئی۔اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے بینکنگ کورٹ میں فائنل چالان داخل کرنےمیں ناکام رہا، ایف آئی اےتمام اداروں کی مددکے باوجودشواہد تلا ش نہ کرسکا۔

فریال تالپور کی جانب سے درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جےآئی ٹی کےسامنےپیش بھی ہوئی اورتحریری جواب بھی دیا، عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ جے آئی ٹی قابل قبول شواہد نہ لاسکی، سپریم کورٹ کے حکم سے فیئر ٹرائل کا حق متاثر ہوگا،

سپریم کورٹ کامعاملہ نیب کو بھجوانا غیرقانونی اور بےجا ہے۔دائردرخواست میں سپریم کورٹ سے 7جنوری کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے

 

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے آصف زرداری بطور رکن قومی اسمبلی اور پارٹی سربراہ نااہلی کی درخواست پرسماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ سیاسی لڑائی سیاسی فورم اور پارلیمنٹ میں لڑنی چاہیے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے آصف زرداری  کی بطور رکن قومی اسمبلی اور پارٹی سربراہ نااہلی کے لیے تحریک انصاف کے رہنماؤں خرم شیر زمان اور عثمان ڈار کی درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کا متعلقہ فورم الیکشن کمیشن بنتا ہے، آپ کیوں سیاسی کیس یہاں لاتے ہیں، سیاسی لڑائی سیاسی فورم اور پارلیمنٹ میں لڑنی چاہیے۔ جس پر تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ یہ کیس تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر دائر کیا گیا، یہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا کیس ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن متعلقہ فورم نہیں ہے، اس معاملے میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ الیکشن کمیشن مجاز نہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہاں آنے کی بجائے کسی تحقیقاتی ادارے کے پاس بھی جاسکتے ہیں، ہمیں پارلیمنٹ کی بالادستی کو مدنظررکھنا ہے، یہ وقت ہے کہ پارلیمنٹ کومضبوط کیا جائے، پارلیمنٹ کو چاہیےاس معاملے کو دیکھنے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے، ہائی کورٹ میں پہلے ہی بہت سے مقدمات زیرالتواء ہیں، جو لوگ جیل میں ہیں ہمیں انہیں ترجیحی بنیاد پرسننا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے آئندہ سماعت پردلائل طلب کرلئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا کہ یہ کیس عوامی نوعیت کا ہے، عدالت کواس پر بھی مطمئن کریں کہ اسےترجیحی بنیادوں پر کیوں سنیں۔

 
 

 

شہر بھر کے شادی ہال مالکان نے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل ہونے والی تقاریب منسوخ سمجھی جائیں۔

کراچی میں شادی ہال مالکان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے مرکزی دفتر سوک سینٹر کے باہر دھرنا دے دیا۔ مالکان اور ملازموں نے قانونی کمرشل شادی ہالز کو غیر قانونی قرار دینے کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔

شادی ہال مالکان نے کہا کہ ایس بی سی اے نے ہال منتقل کرنے کے لیے 3 دن کا نوٹس دیا ہے ہم کہاں کام کریں؟۔ مالکان نے احتجاجاً کل سے شادی ہال بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ کل ہونے والی تقاریب منسوخ سمجھی جائیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر ایس بی سی اے نے کمرشل پلاٹس پر قائم شادی ہالز کو نوٹس دینے کی کارروائی تیز کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے 28 جنوری سے شادی ہالز کے خلاف آپریشن شروع کرے گی اور اس سلسلے میں ضلع شرقی اور ضلع وسطی میں پلاٹس کو کمرشل سرگرمیاں ختم کرنے کے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں کارساز، شاہراہ فیصل، راشد منہاس پر قائم تمام شادی ہالز اور کنٹونمنٹ ایریاز میں تمام سینما گھروں، کمرشل پلازے اور مارکیٹس گرانے کا حکم دیا ہے۔

 
 

 

سعید غنی کا سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان وزیر بلدیات سندھ نے سپریم کورٹ کے عمارتیں گرانے کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ ان کے لیے رہائشی عمارتوں کو توڑنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی وزارت چھوڑ دیں گے مگر عمارتیں توڑنے کا کام نہیں کریں گے۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے گزشتہ روز لیاری میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے کہا کہ ایم پی اے رمضان گھانچی پر فائرنگ کا واقعہ افسوسناک ہے، ہماری ہمدردی اُن کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد جو تاثر دیا گیا وہ غلط ہے، فائرنگ کے واقعے میں نامزد ملزم علی سومرو ابھی مفرور ہے، اس معاملے پر قانون کے مطابق ملزمان کو سزا ملے گی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ 19 برس میں پانی کے کنیکشن کی اجازت کسی کو نہیں دی، پانی کے کنکشن پر جھگڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا جو اختیار ہے وہ استعمال کرے تاہم ایم پی اے کو اختیار نہیں کہ پانی کے کنکشن دے۔

 

 

بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدرآصف زرداری اورفریال تالپورکی ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کردی۔

ذرائع کے مطابق میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اوران کی بہن فریال تالپوربینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے۔  سماعت کے دوران ایف آئی اے پراسیکیوٹرنے کہا کہ معاملہ نیب کو منتقل ہورہا ہے، ضمانت پر کارروائی فی الحال نہ کی جائے جس پر وکیل انورمجید نے کہا کہ انور مجید اور اے جی مجید کو ضمانت دی جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، حکم امتناعی فعال نہیں، ایف آئی اے سے حتمی چالان طلب کیا جائے، اگر حتمی چالان نہیں آتا تو پھرعبوری کو ہی حتمی چالان تصور کیا جائے۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ حتمی تفتیش تک ضمانتوں پرکارروائی روک دی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے معاملہ عمل درآمد بینچ کے سامنے رکھنے کا بھی کہا ہے، بتایا جائے کہ سپریم کورٹ کا حکم امتناعی فلیڈ میں ہے یا نہیں جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناعی واپس نہیں لیا۔ عدالت نے استفسارکیا کہ کیا کسی کے پاس سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ  آفیشل ججمنٹ کی کاپی نہیں ملی۔ وکیل انورمجید نے کہا کہ جب انہیں آفیشل فیصلہ نہیں ملا تو یہاں دلائل کیسے دے سکتے ہیں۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالت کو پڑھ کر سنایا گیا جس پر وکیل انور مجید نے کہا کہ کہاں لکھا ہے کہ حکم امتناعی برقرار رکھا جائے، سپریم کورٹ کی فائینڈنگ میں حکم امتناعی کوبرقراررکھنے کا کہیں ذکر نہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم ہوچکا، اب بینکنگ کورٹ فیصلہ کرنے میں آزاد ہے، 5 ماہ سے انورمجید اورعبدالغنی مجید کو جیل میں رکھا ہوا ہے۔

پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے کہا کہ ایف آئی اے تفتیشی افسراسلام آباد میں مصروف ہے، ریکارڈ کا جائزہ لینے دیں، مہلت دی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بغیر تفتیش کو دیکھے ضمانت کیسے چلا سکتے ہیں، تفتیشی افسر موجود ہے نہ ایف آئی اے ریکارڈ، کیس کیسے چلائیں، پہلے سپریم کورٹ کے فیصلہ، ریکارڈ اور تفتیشی افسر کو آنے دیں۔

پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے کہا کہ عدالت سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک دفعہ دیکھ لے پھر کارروائی آگے بڑھائے، وکیل انور مجید نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے والوں سے ڈرلگتا ہے انہوں نے بڑے بڑے معتبر لوگوں کو نہیں چھوڑا، مجھے ڈرہے کہیں تحقیقات میں آپ کا نام بھی نہ لکھ دیں۔

عدالت نے آصف زرداری اورفریال تالپورکی ضمانت میں توسیع کردی جب کہ عبدالغنی مجید اورانورمجید کی درخواستِ ضمانت پرسماعت 6 فروری کو ہوگی۔

 
 

 

اسلام آباد:تحریک انصاف نے پی پی کے شریک چیئرمین  آصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردیں

شریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی اور سابق صدر آصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردیں، تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار اور خرم شیر زمان کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے تمام اثاثہ جات کو ظاہر نہیں کیا لہذا انہیں آئین کے آرٹیکل 62،63 کے تحت نااہل کیاجائے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کو پارٹی کے وائس چیئرمین شپ کے عہدہ سے بھی ہٹایاجائے جب کہ آصف علی زرداری نے اپنے زیراستعمال گاڑیاں اور گھروں کی مکمل تفصیلات بھی فراہم نہیں کیں۔

 

 

اسلام آباد:سپریم کورٹ پاکستان میں مسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے عیسائی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے یونین کونسلز کو قانون کے مطابق مسیحیئوں کی شادیاں رجسٹر کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) مسیحی برادری کو میرج سرٹیفکیٹ جاری کرے اور حکومت پنجاب اس حوالے سے مزید قانون سازی بھی کرے۔ کیس کا فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے خود پڑھ کر سناتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا۔ سپریم کورٹ نے مسیحئیوں کی شادیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ دس ستمبر 2018 کو محفوظ کیا تھا۔ مسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مسیحی برادری کی شادی کی رجسٹریشن کا قانون موجود ہے اور 1872 کے مسیحی شادیوں کے قانون کے تحت یونین کونسل میں رجسٹریشن ہوتی تھی۔ تاہم پنجاب کے اکثر علاقوں میں اب ہماری شادیوں کو رجسٹر نہیں کیا جاتا ۔بلکہ صرف اموات اور پیدائش کو ہی رجسٹر کیا جاتا ہے۔

 

Page 4 of 46