پیر, 24 جون 2024

 

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں اسپتالوں کی کمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قومی ادارہ احتساب (نیب) پر برہم ہوگئے اور چیئرمین نیب کو طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ کل تک اسپتال کے لیے زمین الاٹ کی جائے ورنہ توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔
سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں اسپتالوں کی کمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ (کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) سی ڈی اے نے اسپتال کے لیے زمین فراہم کرنا تھی، اس کا کیا ہوا؟
سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ قومی ادارہ احتساب (نیب) نے زمین فراہم کرنے سے روک دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بلائیں نیب کے چیئرمین کو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک درخواست پر نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کر دیتا ہے، ہم نے خود چیئرمین نیب کو پیش نہ ہونے کی رعایت دی تھی۔ ہم چیئرمین نیب سے یہ رعایت واپس لے لیتے ہیں۔ نیب نے سارے پاکستان کو بدنام کرنا شروع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ نیکی کا کام بھی شروع ہوتا ہے تو نیب ٹانگ اڑا دیتا ہے، نیب حکام عدالت میں جواب دیں۔ حکام ناکام رہے تو چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں بلائیں گے۔
عدالت نے چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل نیب اور چیئرمین سی ڈی اے کو چیمبر میں طلب کرلیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور میں نیب کی ایک بی بی بیٹھی ہیں جو لوگوں کو بلیک میل کرتی ہیں۔ چیئرمین نیب کو بتا دیں ممکن ہے ان کو حاصل حاضری سے استثنیٰ واپس لے لیں، نیب نے عدالتی احکامات کی ہی تذلیل شروع کر دی۔
انہوں نے پوچھا کہ بحرین حکومت نے اسپتال کی تعمیر کے لیے 10 ارب کا تحفہ دیا تھا، اس اسپتال کی تعمیر سے متعلق کیا ہوا؟ وفاقی سیکریٹری برائے صحت نے بتایا کہ اسپتال کی تعمیر سے متعلق کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سی ڈی اے سے جو کہا تھا 15 دن میں زمین کا فیصلہ کرے۔ سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ زمین حاصل کرنے کے معاملے کی نیب نے انکوائری شروع کردی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے کے لیے عدالتی حکم اہم ہے یا نیب کا، کل تک زمین الاٹ کریں ورنہ چیئرمین نیب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی

 

 

اسلام آبا د:سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھارتی ڈی ٹی ایچ کی فروخت سے متعلق کیس نمٹا دیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ بھارتی ڈی ٹی ایچ کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ڈی ٹی ایچ فروخت کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،معاملے کو مزید چلانا مناسب نہیں ،فروخت کیخلاف عدالتی حکم پر من و عن عمل کیا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہر تین ماہ بعد رپورٹ پیش کی جائے،ضرورت پڑی تو کیس کو دوبارہ لگایا جائے گا،عدالت نے بھارتی ڈی ٹی ایچ کی فروخت سے متعلق کیس نمٹا دیا۔

 

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے وکیل نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر بتایا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان کے خلاف انکوائری مکمل ہوچکی ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) بورڈ کے اجلاس میں انکوائری کو تحقیقات میں تبدیلی کرنے کی منظوری دے گا۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ نیب معاملہ پر تحقیقات منطقی انجام تک پہنچائے۔ عدالت نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق از خود نوٹس نمٹادیا۔

 

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سندھ میں جنگلات کی زمین الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ جنگلات کی زمین کی حد بندی کی جارہی ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ کابینہ نے جنگلات کی زمین سے متعلق کیا فیصلہ کیا، ماحول کیلئے جنگلات انتہائی ضروری ہیں، کیا جنگلات کی تمام اراضی واگزار کروا لی گئی ہے؟
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ فی الحال جنگلات کی ستر ہزار ایکڑ غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ نہیں ہوئی۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے احکامات سے جنگلات کی زمین الاٹ ہورہی ہے۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کام نہیں کرنا تو عہدہ چھوڑ دیں، جو حکمرانی کا حق ہی نہیں رکھتے وہ کیوں بیٹھے ہیں، 30 اکتوبر کو عدالت نے حکم دیا تھا کابینہ نے اب تک عمل نہیں کیا۔

 

 

اسلام آباد :چیف جسٹس ثاقب نثار نے زلزلہ متاثرین کیلئے فنڈز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے کہیں جاکران کے حالات دیکھ کرآئیں، میں 4 گھنٹے کے نوٹس پرجاسکتاہوں تووزیراعظم کیوں نہیں؟۔ چیف جسٹس نے چیئرمین این ڈی ایم اے کے طلب کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے زلزلہ متاثرین کیلئے فنڈز میں بے قاعدگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کامعاملہ ہے، اچھے خاصے لو گ مانگنے پرمجبور ہوئے، وزیراعظم سے کہیں جاکران کے حالات دیکھ کرآئیں، میں 4 گھنٹے کے نوٹس پرجاسکتاہوں تووزیراعظم کیوں نہیں؟۔جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ :وزیراعظم کوغالباًاس معاملے کاپتہ نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمال ہے وزیراعظم کوصوبے کے مسائل کاپتہ نہیں۔ چیف جسٹس اور ٹارنی جنرل کے درمیان مکالمہ ہو ا اور چیف جسٹس نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی توجہ دلائیںکیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے نام پر کھانے کیلئے ایرابنادیا، کوئی ایک غسل خانہ بھی بنایاہے؟ 11 سال سے ایرانے کچھ نہیں کیا،سکول بنانہ کوئی گھر،فنڈزکہاں خرچ ہوئے؟۔ عدالت میں چیئر مین ایرا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 10 ہزار 500 منصوبے مکمل کیے گئے۔عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ زدگان کے فنڈزسے کتنے پروجیکٹ مکمل کیے،رپورٹ پیش کریں، فنڈزملتان میٹرومنصوبے پرکیوں خرچ ہوئے،ہمیں اپنی اتھارٹی دکھانے کا کوئی شوق نہیں ہے کہ کچھ لوگوں کو یہاں بلاکر سرزنش کریں ، کچھ حقائق بہت تلخ ہیں ،وفاقی حکومت 10 روزمیں رپورٹ پیش کرے۔چیف جسٹس نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو طلب کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آباد کاری اور نئے گھر نہ بنے تو مظاہرین کے ساتھ مل کر احتجاج کروں گا۔

 

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سندھ میں گورنر راج لگنے کی افواہوں پر ریمارکس دیے ہیں کہ گورنر راج ختم کرنے میں ایک سیکنڈ لگے گا۔

سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی تو حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی خبروں کی تردید کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر راج لگانے کا تاثر میڈیا نے دے رکھا ہے اور سندھ میں گورنر راج لگانے کی کوئی تجویز نہیں، ملک میں جو ہوگا آئین کے مطابق ہوگا۔ 

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتیں بیٹھی ہیں ،ایک سیکنڈ لگے گا گورنر راج ختم کرنے میں، گورنر راج صرف آئین کے مطابق ہی لگ سکتا ہے اور اس کا جواز دینا پڑے گا۔ ایسے گورنر راج نہیں لگے گا، جمہوریت آئین کا بنیادی جز ہے اور اسے ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس نے آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ سے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کروانا عدالت کی ذمہ داری ہے، اپنے بڑوں کو بتا دیں کہ ان کے خلاف کارروائی کسی کے کہنے پر نہیں ہو رہی۔

سپریم کورٹ نے حکومت اور اپوزیشن کو جعلی اکاؤنٹس کیس پر تبصرے سے روکتے ہوئے کہا کہ کسی کا کمنٹ پکڑا گیا تو سخت کارروائی ہوگی، یہ بات حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ہے، دونوں فریقین رائے دیتے وقت احتیاط کریں۔

 
 

 

اسلام آباد: سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بنچ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی تعیناتی کیخلاف درخواست کی سماعت کی تو زلفی بخاری کی طرف سے بیرسٹر اعتزاز احسن پیش ہوئے۔
درخواست گزار ظفر اقبال کلانوری نے موقف اختیار کیا کہ زلفی بخاری کی دہریت شہریت ہے لیکن انہیں وزیر مملکت کا عہدہ دیا گیا ہے، حالانکہ سپریم کورٹ کے سرکاری ملازمین کی دہری شہریت سے متعلق فیصلہ زلفی بخاری پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی دہری شہرت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ زلفی بخاری پر لاگو نہیں ہوتا، معاون خصوصی کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار ہے، زلفی بخاری آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں نہیں آتے۔
چیف جسٹس نے ظفر اقبال کلانوری سے کہا کہ آپ نے فیصلہ غور سے نہیں پڑھا، ہم نے اس فیصلے میں پابندی نہیں لگائی، ہم نے پارلیمنٹ کو تجاویز دی ہیں، ہم اوورسیز پاکستانیوں کی بہت قدر کرتے ہیں جیسے انہوں نے ڈیم فنڈ میں حصہ لیا، آپ کو زلفی بخاری کی تعیناتی کیخلاف رولز آف بزنس کو چیلنج کرنا چاہئے تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ معاون خصوصی کی تعیناتی کا فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے، کیونکہ حکومت چلانا وزیراعظم کا کام ہے۔
ظفر کلانوری نے کہا کہ قانون نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے معاون خصوصی کی کوئی اہلیت مقرر نہیں تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر یہ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ زلفی بخاری بطور وزیر کام کر رہے ہیں اور کابینہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، بیرون ملکوں سے معاہدے کررہے ہیں، یہ کام وزیر کے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم زلفی بخاری کو آپ کی استدعا کے مطابق نکال نہیں سکتے، پارلیمنٹ کو اس پر تجاویز دے سکتے ہیں، انہیں کہاں سے منسٹر بنایا گیا، پوری سمری لائیں، انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر کیسے وزیر مملکت کا عہدہ لکھ دیا؟، زلفی بخاری کی اہلیت بتائیں، نئے پاکستان میں جید لوگ ہونے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وزیراعظم جس طرح مرضی کام کرے، مجھے وہ سمری دکھا دیں کیسے سمری وزیراعظم کو بھیجی گئی، کیسے زلفی بخاری معاون خصوصی بنے۔
کیس کی مزید سماعت عدالتی وقفے تک ملتوی کردی گئی۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے چوہدری سرور اور نزہت صادق کی دہری شہریت کا کیس نمٹادیا۔ عدالت نے گورنر پنجاب چوہدری سرور اور نزہت صادق کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کی تو دفتر خارجہ نے اپنی رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور اور نزہت صادق مستقل طور پر غیر ملکی شہریت چھوڑ چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے رپورٹ کی روشنی میں کیس نمٹادیا۔
 

 

کوئٹہ: چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔
کوئٹہ میں بلوچستان بار میں اپنے خطاب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی تعمیرآنے والی نسلوں کے لئے بہترین تحفہ ہوگا، اداروں کے حوالے سے کسی کا رہنا یا نہ رہنا معنی نہیں رکھتا، میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم مہم کے حوالے سے بہت محبت ملی ہے، ڈیم ہماری بقا اورآنے والی نسلوں کے لیے ناگزیرہوچکا ہے، خدا کا واسطہ اس ملک سے محبت کریں، ایک سال اس ملک کو دیں اور پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا لوگوں کونہیں معلوم تھا کہ بلوچستان میں پانی کی کس حد تک سطح گررہی ہے، اس کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے، ان لوگوں کا کسی نے احتساب نہیں کرنا ہے، اب وقت ہے کہ ملک کو لوٹایا جائے، قوم کو آگے آنا چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچستان کی نمائندگی ناگزیر ہے، ہم نے ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد تین ماہ پہلے بڑھا دی تھی۔

 

 

اسلام آبا د : سپریم کورٹ میں پی آئی اے کے بارہ پائلٹس اور تھہتر کیبن کروکی ڈگریاں جعلی نکلنے کا انکشاف ہوا، جس پر عدالت نے پی آئی اے، سول ایوی ایشن کے سربراہ اور ڈگریوں کی تصدیق نہ کرنے والی یونیورسٹیوں کے سربراہوں کو طلب کرلیا، چیف جسٹس نے کہا ایک سال ہوگیا پی آئی اے نے ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے پائلٹس اورکیبن کروکی ڈگریوں کی تصدیق سے متعلق کیس کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا غیر ضروری التوا اور تاخیرکی گئی، این آئی آر سی میں ملازمین کی ڈگریوں کے مقدمات یہاں منگوا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا جس دن سے نیئر رضوی ہٹے ہیں حکومت صحیح تعاون نہیں کررہی، ہر ہفتے کیس لگا کر تاریخ نہیں دے سکے سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ 73 کیبن کرو اور 12 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں، جعلی ڈگری والوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا شوکاز نوٹس کی کیا ضرورت تھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ نمائندہ سول ایوی ایشن نے بتایا سول ایوی ایشن نےان کے لا ئسنس معطل کردیے ہیں،جعلی ڈگری والوں نے عدالت سےحکم امتناع لے رکھا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا اس کا مطلب ہے، پی آئی اے ان کو تنخواہیں ادا کرتا رہے گا،ایک سال ہوچکا ہے ابھی تک تصدیق کیوں نہ ہوسکی۔ اعلی عدالت نےپی آئی اےاورسول ای ایشن کے سربراہ کو طلب کرلیا جبکہ جعلی ڈگری ہولڈرز کا ریکارڈ ماتحت عدالتوں سے مانگ لیا گیا، ڈگریوں کی تصدیق نہ کرنے والی یونیورسٹیوں کے سربراہان بھی طلب کرلئے۔ چیف جسٹس نے کہا ایک سال پہلے نوٹس لیاتھا، پی آئی اے اور سول ایویی ایشن نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے، بعد ازاں کیس کی سماعت23 دسمبر تک ملتوی کردی۔

 

 

اسلام آباد :ڈیموں کی تعمیر، عطیات جمع کرنے کے لئے امریکا میں موجود سینیٹرفیصل جاوید کی زبردست پذیرائی ہوئی ، فیصل جاوید نے کہا ڈیمز کیلئے دل کھول کرحصہ ڈالنے پر اہل وطن سلام کےمستحق ہیں، اہل وطن سے ا پیل کرتاہوں آگےبڑھیں اورڈیم فنڈمیں حصہ ڈالیں۔ اوورسیزپاکستانیوں کی جانب سے ڈیم کے لئے عطیات بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے، عطیات جمع کرنےکے لئے امریکا میں موجود سینیٹر فیصل جاوید کی زبردست پذیرائی ہوئی۔ فیصل جاوید نے کہا اللہ ہرسال145ملین ایکڑفٹ پانی ہمیں نصیب کرتےہیں، بدقسمتی سےہم محض13.7ملین ایکڑفٹ پانی ہی بچاپاتے ہیں، پاکستان کوسالانہ کم ازکم 40 ملین ایکڑفٹ پانی درکارہے، ذخائرآب نہ ہونے سے29 ملین ایکڑفٹ پانی ضائع ہوجاتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبی ذخائرکی تعمیروقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ہمار ے پا س 2 ڈیمزہیں، جن میں 4ماہ کے مقابلے میں 1ماہ کا پانی ہے، ہمارے مقابلے میں بھارت 6ماہ کیلئے پانی جمع کرسکتا ہے جبکہ امریکا30 ماہ، مصر33 ماہ تک کے پانی کے ذخیرے کی صلاحیت رکھتا ہے فیصل جاوید نے کہا ڈیمز کیلئے لگ بھگ ساڑھے8 ارب کے عطیات جمع ہوچکے ہیں، دل کھول کرحصہ ڈالنے پراہل وطن سلام کےمستحق ہیں اور وزیراعظم اور چیف جسٹس بھی بھرپورخراج تحسین کےمستحق ہیں۔ سینیٹر کا کہنا تھا سیٹل اورفونکس کے بعدآج واشنگٹن کی باری ہے، 8دسمبر کو شکاگو اور 9 دسمبر کو نیو جرسی میں پاکستانی عطیات دیں گے، اہل وطن سےاپیل کرتاہوں آگے بڑھیں اور ڈیم فنڈمیں حصہ ڈالیں۔ دو دسمبر کو واشنگٹن میں ڈیمز فنڈ کیلئے فنڈ ریزنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا، تقریب میں موجود افراد نے دو گھنٹے میں دس کروڑ سے زائد کے عطیات دیئے، تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے دستخط شدہ بیٹ اور بال کی نیلامی کے علاوہ وسیم اکرم کی دستخط شدہ بال بھی نیلامی کا حصہ تھی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا تھا کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ماضی کے حکمرانوں کا بہت پہلے اقدامات کرنا چاہیئے تھے، پاکستان میں بڑے ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے سستی بجلی نہیں بن سکتی۔ 8 ستمبر کو ڈیم فنڈ ریزنگ کے لیے وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماو¿ں کو ٹاسک دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی، یورپی ممالک میں فنڈ ریزنگ کے لیے پارٹی رہنما رابطے کریں گے۔

 

Page 5 of 46