پیر, 27 مئی 2024

 

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ پتہ نہیں کس نے اسپتال سے ملنے والے نمونوں کو بدل دیا۔

سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران  ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ میرے کراچی میں سب جیل کے دورے پر بڑا شور مچا ہے، ایسا لگا جیسے شرجیل میمن سب جیل نہیں صدارتی سوٹ میں رہ رہے ہیں، معلوم نہیں کس نے نمونے لیے، کس نے ٹیسٹ کرائے، پتہ نہیں کس نے اسپتال سے ملنے والے نمونوں کو بدل دیا، اگر مجھے کارروائی کرنا ہوتی تو شرجیل میمن کو گرفتار کروا کے خود نمونے لیتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے چیف جسٹس نے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج شرجیل میمن کے کمرے میں چھاپہ مارا تھا جہاں انہیں شراب کی بوتلیں ملی تھیں جس پر شرجیل میمن نے اس سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ شرجیل میمن کے خون کے نمونوں کی ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شرجیل میمن کے خون کے نمونوں میں الکحل نہیں ملی۔

 

کراچی: ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران شاہ سزا یافتہ، عوامی عہدے کے لیے نااہل ہوگئے۔
انٹرنیشنل لائرفورم کے چیئرمین ناصر احمد ایڈووکیٹ و دیگر ماہرین قانون نے پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ کوسپریم کورٹ سے سزا یافتہ قرار دے دیا ہے۔
ناصرایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران شاہ کو 30لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے اور اپنے ریمارکس میں شہری کو تھپڑ مانے کے جرم کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے، عمران شاہ پر جرم ثابت تھا جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا یہ سمری ٹرائل کے زمرے میں آتا ہے، عمران شاہ کو پارٹی نے بھی سزا سنائی تھی۔
دوران سماعت مدعی نے بھی تصدیق کی عمران شاہ نے دوران سماعت اپنا جرم بھی قبول کیا اور اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہا، عمران شاہ پارٹی سے بھی سزا یافتہ اور عدالت عظمیٰ سے بھی سزا یافتہ ہوگئے ہیں۔
الیکشن کمیشن ایکٹ 2017کے تحت سزا یافتہ کو عہدے سے نااہل قرار دیا ہے اس سزا کو قانون کے تناظر سے دیکھا جائے عمران شاہ کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو پیر کے روز طلب کر لیا ہے۔ 

نیب میں پیش ہونے والے افراد کی میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے خلاف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے کی۔

چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا کوئی حق نہیں، ہر آدمی کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں، آپ کے بندے کو نوکری نہیں ملی تو پرائیوٹ بندے کو بلا کر بے عزت کر رہے ہیں؟ نیب یہ چاہتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والا سرمایہ کار خوف سے بھاگ جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کسی بھی فرد کو نوٹس بعد میں ملتا ہے اور ٹی وی چینلز پر ٹکرز پہلے چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ 

چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کی طلبی کے معاملے کو تو خفیہ ہونا چاہئے، عدالت میں جرم ثابت ہوئے بغیر نیب کیسے کسی کو مجرم کہہ سکتا ہے، اگر کوئی انکوائری میں بے گناہ ہو جاتا ہے تو اس کی معاشرے میں کیا عزت رہ جائے گی، نیب میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں، اگر کسی تفتیشی افسر کے بارے میں پتا چلے کہ اس نے معلومات کا تبادلہ کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اور نیب پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر کو  پیر کے روز چیمبر میں طلب کر لیا۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ نے پاک فوج کے تمام کمیشنڈ افسران کی شہریت اور جنرل (ر) راحیل شریف و شجاع پاشا کو بیرون ملک ملازمت کی اجازت کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ میں ججز اور سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ سیکرٹری دفاع عدالت میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو بیرون ملک ملازمت کی اجازت دینے کی تفصیلات طلب کرلیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جنرل شجاع پاشا ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد ہی بیرون ملک ملازمت کے لئے چلے گئے،اتنے بڑے اور اہم ادارے کے سربراہ یوں چلے جاتے ہیں، کیا قانون میں اس کی کوئی ممانعت نہیں؟، راحیل شریف بھی اسی طرح بیرون ملک ملازمت کے لئے چلے گئے۔ 

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق وفاقی حکومت سول سرونٹ ملازمین کو بیرون ملک ملازمت کی خصوصی اجازت دے سکتی ہے، ملازمت ختم ہونے کے دو سال بعد کوئی بھی سرکاری ملازم بیرون ملک جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس قانون کے ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کو ملازمت کے فوری بعد باہر جانے کی اجازت ہوسکتی ہے، کیا اس قانون کا اطلاق مسلح افواج پر نہیں ہوتا، میرا نہیں خیال کہ وفاقی کابینہ نے کوئی ایسی خصوصی اجازت دی ہے، ہم ایجنسیوں کے لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں، ان لوگوں کو تو کئی کئی سال تحفظ ملنا چاہئے، ان کے پاس بڑی حساس معلومات ہوتی ہیں، خدانخواستہ کچھ ہو نہ جائے، معاملے پر غور کرنا ہوگا۔

سیکرٹری دفاع نے جواب جمع کرایا کہ فوج میں کوئی اہلکار یا افسر دوہری شہریت کا حامل نہیں اور دہری شہریت رکھنے کی اجازت بھی نہیں، بھرتی کے اشتہار میں واضح لکھا جاتا ہے کہ دہری شہریت کے حامل افراد اہل نہیں، بھرتی کیلئے غیر ملکی شہریت چھوڑنی پڑتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے کسی افسر یا اہلکار نے غلط بیانی کی ہو، تمام اہلکاروں اور افسران کی شہریت کی تصدیق کروائیں گے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 27 سرکاری افسران خود کو دہری شہریت کا حامل سمجھتے ہیں، تاہم قانون کے تحت یہ افسران صرف غیر ملکی شہری تصور ہوں گے۔

عدالت نے افسران کی شہریت کی جانچ پڑتال کا حکم دیتے ہوئے 27 غیر ملکی سول افسران کو نوٹس جاری کردیے اور ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے پاک فوج کے تمام کمیشنڈ افسران اور ان کی بیویوں کی شہریت کی تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اگست تک ملتوی کردی۔

 

 

ایمزٹی وی(گوجرانوالہ)پی ٹی آئی نے گوجرانولہ کے حلقہ  پی پی 53 سے نااہل امیدوار ناصر چیمہ  کے بیٹے کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے گوجرانوالہ کے حلقہ  پی پی 53 سے نئے امیدوار جمال ناصر چیمہ کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا، اس سے قبل پی ٹی آئی کے امیدوار  ناصر چیمہ کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا تھا، ناصر چیمہ پرانتخابی تشہیر میں آرمی چیف اور چیف جسٹس کی تصاویر بورڈ پر لگانے کا الزام تھا، اور ناصر چیمہ نے اپنی نااہلیت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ 

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ناصر چیمہ کے بیٹے جمال ناصر چیمہ کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا ہے جب کہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو جمال ناصر چیمہ کو بلے کا نشان جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)قومی احتساب بیورو(نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اورمسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو اڈیالہ جیل بھجوادیا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق کیپٹن (ر) صفدرکوبکتربند گاڑی میں احتساب عدالت کے عقبی راستے سے لایا گیا، نیب راولپنڈی کی ٹیم نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو سخت سکیورٹی میں جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا، جنہوں نے مجرم کو اڈیالہ جیل بھیجنے کے احکامات دئیے جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل بھجوادیا گیا۔

اس سے قبل گزشتہ روزکیپٹن ریٹائرڈ صفدر نیب کوگرفتاری دینے راولپنڈی پہنچے، تو(ن) لیگ کے کارکنوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ریلی کی قیادت کرتے راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں گئے، اس دوران پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی مگرکامیابی نہ ملی۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدرنے پہلے لیاقت باغ اور پھرسکستھ روڈ پرگرفتاری دینے کا اعلان کیا، وہ پلان کے مطابق راجہ بازار، صرافہ بازارسے ہوتے سکستھ روڈ تک جانا چاہتے تھے، مگر نیب نے انہیں صرافہ بازارسے ہی گرفتارکرلیا تاہم ان کی باضابطہ گرفتاری سکستھ روڈ پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی دفترمیں عمل میں لائی گئی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(مانسہرہ)احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے باوجود کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

گزشتہ روز احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10، مریم نواز 7 جب کہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ نواز شریف اور مریم نواز بیرون ملک ہیں, تاہم کیپٹن (ر) صفدر مانسہرہ میں اپنے آبائی علاقے میں موجود ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر کو سزا ہونے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی 

ڈی آئی جی ہزارہ عالم شنواری کا کہنا ہے کہ انہیں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے لئے تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے، تحریری احکامات موصول ہوتے ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

 

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ نے مہنگائی کے ستائے شہریوں کو خوش خبری سناتے ہوئے موبائل فون کارڈز اور لوڈ پر بھاری ٹیکسز کو تاحکم ثانی معطل رکھنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے موبائل فون بیلنس پر ٹیکسز سے متعلق کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ موبائل کارڈز پر ٹیکس تاحکم ثانی معطل رہے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے موبائل کارڈز پر ٹیکس صرف 10 دن کے لیے معطل نہیں کیا تھا۔ 

عدالتی حکم کی روشنی میں شہریوں کو 100 روپے کے ری چارج پر 100 روپے بیلنس ہی ملتے رہیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے موبائل فون کارڈز پر ٹیکسوں کی بھرمار کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انہیں معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایف بی آر نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے موبائل بیلنس پر تمام ٹیکسز فوری طور پر ختم کردیے تھے۔ ابتدائی طور پر کہا گیا کہ ٹیکسز کو 15 روز کے لیے معطل کیا گیا ہے لیکن اب چیف جسٹس نے ٹیکسز کو تاحکم ثانی ختم کردیا ہے۔

 

 

ایمزٹی وی(ٹیکسلا)سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ آج میں بہت سارے معاملات نہیں کھولنا چاہتا تاہم ایون فیلڈ کا فیصلہ آجائے پھر نواز شریف سے اختلافات کھل کر بتاؤں گا۔ 

ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو میں چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں سیدھا سوچتا ہوں اور سیدھا بولتا ہوں، 2013 میں بھی چار سیٹوں سے کھڑا ہوا تھا جب کہ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں لیکن میں بہت پر امید ہوں 25 جولائی کی رات کو نتیجہ بہت اچھا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گورننس بہت مشکل ہے، پاکستان کو ترقی کے مراحل طے کرانے کے لیے ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ (ن) لیگ کا پرسان حال کون ہے کون نہیں اس کا فیصلہ میں تو نہیں کرسکتا لیکن مسلم لیگ (ن) کس طرف جارہی ہے اور اس کو کنٹرول کون کر رہا ہے، یہ بہت سے سوالات ہیں، نوازشریف کی بہتری کے لیے کہا تھا اپنی مشکلات میں اضافہ نہ کریں، کوئی قانون سازی ایسی نہیں جس پر میں نے نواز شریف کا ساتھ نہ دیا ہو، میں نے خود جاکر نواز شریف کی صدارت کے لیے ووٹ دیا، اسمبلی میں بھی نہ چاہتے ہوئے نواز شریف کو خود بھی ووٹ دیا اور دلوائے بھی۔  اسمبلی میں ووٹ دینے کے ساتھ 35 ممبران کو ووٹ دینے پر آمادہ بھی کیا، آج میں بہت سارے معاملات نہیں کھولنا چاہتا، ایون فیلڈ کا فیصلہ آجائے پھر میں نواز شریف سے اختلافات کھل کر بتاؤں گا۔ 

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ  نواز شریف نے کہا کہ شیخ مجیب محب وطن ہے جس پر رد عمل دینا چاہتا تھا لیکن نہیں دیا، ممبئی حملوں کے بیان پر 6 گھنٹے تذبذب کا شکار رہا جب کہ بھارت کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے ممبئی حملے کا کیس آگے نہ چل سکا۔ پارٹی کے ساتھ ہر جگہ تعاون کیا، نواز شریف اگر سچے ہیں تو بتائیں میری کس بات پر انہیں دکھ ہوا، کچھ لوگ میڈیا کو استعمال کرکے غلط تاثر دیتے ہیں، میں کبھی بکا نہ ہی کسی کا مہرا بنا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ چاروں سیٹوں پر ایک ہی انتخابی نشان ہو، پہلا نشان جیپ، دوسرا چینک اور تیسرا کرسی میز نشان تھا جب کہ جن امیدواروں نے جیپ نشان لیا ان سے پوچھیں میں نے کسی کو نہیں کہا جب کہ کوئی نثار گروپ بننے نہیں جارہا، میں نے ساری عمر ایسی سیاست نہیں کی، مریم نواز بولتی پہلے ہیں اور سوچتی بعد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف مجھے آرام سے کہتے کہ چوہدری صاحب الیکشن میں کھڑے نہ ہوں، میں نے کہا سیاست چھوڑنا چاہتا ہوں پارٹی والوں نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں کرنا۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کیس بہتر لڑا جاسکتا تھا، میں نے سپریم کورٹ یا فوج کے حوالے سے مشورہ دیا، میں نے کہا آرمی چیف کو بلائیں، جے آئی ٹی میں فوج کے بندے نہیں ہونے چاہئیں، اگر فیصلہ آپ کے حق میں ہوا تو اپوزیشن اور خلاف ہوا تو آپ اسے متنازعہ بنائیں گے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ سب اقتدار کا سوچ رہے ہیں ملک کو درپیش خطرات کے حوالے سے کوئی نہیں سوچ رہا، عمران خان چاہتے ہیں کچھ بھی ہو ہماری حکومت بنے جب کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی چاہتی ہیں کہ ان کی حکومت بنے، موجودہ حالت میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے ورنہ حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔

 
 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت معطل کردی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق معطل کی جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔ 9 مارچ کو جاری ہونے والا اسحاق ڈار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا گیا۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر نیب میں آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کا مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن متعدد بار بلانے پر بھی وہ پیش نہ ہوئے جس پر گزشتہ روز چیرمین نیب نے انہیں انٹرپول کے ذریعے برطانیہ سے وطن واپس لانے کی منطوری دی تھی جب کہ سپریم کورٹ نے بھی اسحاق ڈار کو کئی بار بلایا مگر وہ پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے سابق وزیر خزانہ کی سینیٹ رکنیت عبوری طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ 

واضح رہے کہ اسحاق ڈار نے پنجاب سے سینیٹ کی جنرل اور ٹیکنو کریٹ نشست پر الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے تھے جس کے بعد لاہورہائی کورٹ نے سابق وزیرخزانہ کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی اور وہ سینیٹر منتخب ہوگئے تھے۔

 

Page 9 of 46