بدھ, 17 اپریل 2024


کراچی: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں مالی سال کے پہلے 4ماہ میں1ارب 75کروڑ 90لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔

ایمز ٹی وی (نیوز ڈیسک)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے توازن ادائیگی کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا اکتوبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کو 1 ارب 75کروڑ 90لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا ہے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ کو 1ارب 36کروڑ 80لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔  

اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 6ارب 77کروڑ 40لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 8ارب 15کروڑ 70لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، اکتوبر کے مہینے میں تجارت کو 1ارب 54کروڑ ڈالر جبکہ اشیا و خدمات کی تجارت کو 1ارب 76کروڑ 40لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، فنانشل اکاؤنٹ کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات ہی انفلوز کا اہم ذریعہ بنی ہوئی ہیں، 4 ماہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 6ارب 7کروڑ 80لاکھ ڈالر کی ترسیلات بھیجی گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ترسیلات کی مالیت 5 ارب 27کروڑ 60لاکھ ڈالر رہی تھیں۔

تاہم رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران فنانشل اکاؤنٹ کو 1ارب 4کروڑ 60لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا ہے، گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.7 فیصد کے برابر تھا جو رواں سال بڑھ کر 1.8فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment